صدر آصف علی زرداری نے انسدادِ دہشتگردی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
صدر آصف علی زرداری نے انسدادِ دہشتگردی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دی، جس کا مقصد سیکیورٹی اداروں کی دہشتگردی کے خلاف صلاحیت کو مضبوط بنانا اور ملک میں امن و امان کو فروغ دینا ہے۔
نئے قانون میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا گیا ہے، تاکہ انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات قانونی دائرہ کار میں رہ کر نافذ ہوں۔ بل میں 3 سالہ سن سیٹ کلاز شامل کی گئی ہے، جس کے تحت اس کی مدت محدود رہے گی اور وقت پر اس کا جائزہ لیا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں: مشکوک شخص کو 3 ماہ تک حراست میں رکھا جا سکے گا، قومی اسمبلی میں ترمیمی بل منظور
قانون میں عدالتی نگرانی اور حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ انسدادِ دہشت گردی کے عمل میں شہری حقوق کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ بل پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا اور سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرے گا۔
صدر زرداری کی منظوری کے بعد قانون اب رسمی طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے اور متعلقہ ادارے اس پر عمل درآمد شروع کر دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسدادِ دہشتگردی (ترمیمی) بل 2025 صدر آصف علی زرداری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2025 صدر آصف علی زرداری
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔