دریائے ستلج کی غضب ناک لہریں بورے والا کی حدود میں تباہی مچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیلاب کے نتیجے میں ایک لاکھ 90 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ اس وقت بورے والا سے گزر رہا ہے، جو ہر طرف تباہی کی علامت بن چکا ہے۔

سیلاب سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے متعدد بند ٹوٹ چکے ہیں، جس کی وجہ سے سیلابی پانی ساہوکا تک پہنچ چکا ہے۔ ہزاروں ایکٹر پر کاشت کی گئی فصلیں، بشمول کپاس، دھان، مکئی اور تل، مکمل طور پر دریا برد ہو گئی ہیں۔

اس سیلابی ریلے نے کھیتوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے، اور فصلوں کی تباہی نے کسانوں کے لیے ایک بڑا المیہ کھڑا کر دیا ہے۔

سیلاب نے مکانات، بستیاں اور اسکولوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کئی علاقوں میں پانی کی سطح کئی فٹ تک بڑھ چکی ہے، اور پورے علاقے میں تباہی کا منظر ہے۔

متاثرین اپنے گھروں کو چھوڑ کر سڑکوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں، اور کئی مقامات پر رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔

ایمرجنسی ریلیف آپریشن جاری ہے اور اسسٹنٹ کمشنر بورے والا کے مطابق متاثرین کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

متاثرہ افراد کو کھانا، ادویات اور جانوروں کے لیے چارہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے سیلاب متاثرین کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن تباہی کا پیمانہ بہت بڑا ہے۔

سیلاب نے 80 سے زائد دیہاتوں اور موضع جات کا زمین رابطہ منقطع کر دیا ہے۔ متعدد افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور ان کی مدد کے لیے حکام کی جانب سے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بورے والا کے لیے

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں