لاہور: جماعت اسلامی کا پنجاب پولیس پر الخدمت خیمہ بستی پر دھاوے کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
لاہور:
جماعت اسلامی لاہور نے پنجاب پولیس اور شہری انتظامیہ پر الخدمت کی خیمہ بستی پر دھاوے کا الزام عائد کردیا۔
کنوینئر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور قیصر شریف کے مطابق چوہنگ میں الخدمت فائونڈیشن کی جانب سے متاثرین سیلاب کیلئے قائم خیمہ بستی پر پنجاب پولیس اور شہری انتظامیہ نے دھاوا بول دیا اور مشیر وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں خیمہ بستی کو زبردستی خالی کروانے کی کوشش کی۔
قیصر شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ریلیف کی بجائے متاثرین سیلاب کو تکلیف دینا قابل مذمت ہے ، متاثرین سیلاب کے زخموں پر مرہم کی بجائے نمک پاشی نہ کی جائے ، مشیر وزیر اعلیٰ کی طرف متاثرین سیلاب کے خیمے خالی کروانا انتہائی قابل شرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف فی الفور اس واقعہ کا نوٹس لیں، وزیراعلیٰ پنجاب واقعہ کے ذمہ داران کو سیلاب متاثرین سے معذرت کا حکم دیں، اگر دوبارہ اس طرح کی کوئی کوشش کی گئی تولاہور شہر میں احتجاج کی کال دی جائے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان متاثرین سیلاب خیمہ بستی
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔