دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ، 9 اضلاع میں ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
بھارت نے پاکستان کو دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کے خدشے سے آگاہ کردیا۔
وزارتِ آبی وسائل کے مطابق پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن نے باضابطہ طور پر ستلج میں ممکنہ سیلاب کے حوالے سے اطلاع دی۔
وزارت کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں ہری کے زیریں اور فیروزپور زیریں پر یکم ستمبر صبح 8 بجے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ موجود ہے، اس سلسلے میں متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومتوں کو الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
دریں اثنا پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے بھی وارننگ جاری کرتے ہوئے 9 اضلاع میں ہائی الرٹ کردیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلے سے قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر اور پاکپتن سمیت 9 اضلاع متاثر ہوسکتے ہیں۔
مزید جن اضلاع کو خطرے کا سامنا ہے ان میں وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ تمام متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز فوری طور پر انتظامات مکمل کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جاسکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews الرٹ جاری اونچے درجے کا سیلاب بھارت نے آگاہ کردیا خطرہ دریائے ستلج ممکنہ سیلاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الرٹ جاری اونچے درجے کا سیلاب بھارت نے ا گاہ کردیا دریائے ستلج ممکنہ سیلاب وی نیوز دریائے ستلج اونچے درجے ستلج میں
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔