سیلابی تباہ کاریوں کے باعث شرح نمو صفر کے قریب گرنے کا خدشہ، سابق وزیر خزانہ نے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے خبردار کیا ہے کہ مالی سال 26-2025 میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کی شرح نمو صفر سے ایک فیصد تک سکڑ سکتی ہے، جو کہ عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی 3.6 فیصد کی پیش گوئی سے کہیں کم ہے۔
آج ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 4.
یہ بھی پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک سیلاب متاثرین کے لیے 30 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد دے گا
ڈاکٹر پاشا نے یاد دلایا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے معیشت کو تقریباً 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا تھا جو جی ڈی پی کے 7 سے 8 فیصد کے برابر تھا، ان کے مطابق اس بار بھی معیشت کو زیرو گروتھ تک گرنے کا خطرہ ہے جب تک دیگر شعبے غیر معمولی بحالی نہ دکھائیں۔
انہوں نے انتباہ کیا کہ خوراک کی شدید قلت، مہنگائی میں بے پناہ اضافہ اور روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ عوام پر براہِ راست اثر ڈالے گا۔
مزید پڑھیں: پاکستانی معیشت درست سمت پر گامزن، مہنگائی کم ہوگی: یواین اکنامک سروے
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر 3 سے 4 سال بعد بڑے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوتا ہے لیکن تاحال اس سے بچاؤ یا پیش بندی کے لیے کوئی مؤثر سرمایہ کاری یا حکمتِ عملی وضع نہیں کی گئی۔
ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کا بجٹ فریم ورک بنیادی طور پر بدل گیا ہے کیونکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بڑے پیمانے پر وسائل بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے مختص کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق حکومت کو فوری طور پر اپنی ترجیحات بدلتے ہوئے متاثرہ خاندانوں اور زرعی شعبے کو پالیسی کا مرکز بنانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تباہی تعمیر نو ڈاکٹر حفیظ پاشا زرعی شعبہ زیرو گروتھ سرمایہ کاری مجموعی قومی پیداوار وزیر خزانہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تباہی ڈاکٹر حفیظ پاشا زیرو گروتھ سرمایہ کاری مجموعی قومی پیداوار کے لیے
پڑھیں:
سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
سوات (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوات کے مختلف علاقوں میں چھتیں منہدم ہونے کے دو الگ الگ واقعات میں بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق چارباغ کے علاقے گنڈھیرئی میں ایک گھر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 8 سالہ شیما اور 6 سالہ مناہل جاں بحق ہوگئیں، جبکہ حورین اور ان کی والدہ زخمی ہوئیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 سوات کی ڈیزاسٹر ریسپانس اور میڈیکل ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
مقامی افراد نے ملبے تلے دبے چار افراد کو نکال لیا تھا، جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد فراہم کی۔ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منگلور منتقل کر دیا گیا جبکہ جاں بحق بچیوں کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کر دی گئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
دوسری جانب کالام کے علاقے بلوگا میں ایک کچے ہوٹل کے کمرے کی چھت گرنے سے 32 سالہ وقاص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے شخص کا تعلق ملاکنڈ سے بتایا جاتا ہے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کالام منتقل کر دیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق دونوں واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اس سے قبل، شانگلہ کے علاقے کوزہ الپوری، رحیم آباد میں ایک گھر میں کمرے کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی تھی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :