بانی پی ٹی آئی کی ڈائریکشن ہے، استعفے واپس نہیں لیں گے، بیرسٹر گوہر کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی کی ڈائریکشن ہے، استعفے واپس نہیں لیں گے، بیرسٹر گوہر کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 2 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپیکر نے کہا وہ استعفے منظور نہیں کریں گے لیکن ہمارا فیصلہ اٹل ہے، ہم استعفے واپس نہیں لیں گے کیونکہ یہ بانی پی ٹی آئی کی ڈائریکشن ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم 91 ممبران کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھے، آج ہمارے پاس 76 ممبران ہیں، پرسوں تک 25 ایم این ایز نے استعفے جمع کروائے تھے، آج تک سارے ایم این ایز کے استعفی ہو گئے، صرف ان ایم این ایز کے رہتے ہیں جو ملک سے باہر ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جس طرح نیشنل ایکشن پلان بنایا اسی طرح زلزلے اور سیلاب کے خلاف بھی نیشنل ایکشن پلان بنانا چاہئے، میں سمجھتا ہوں یہ وقت الزامات کا نہیں، لوگ بہت زیادہ متاثر ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی ایسی پالیسی ہونی چاہئے جس میں پنجاب یا کے پی نہ ہوں بلکہ پاکستان ہو، نقصان کسی صوبے کا ہو نقصان پاکستان اور ہمارے بھائیوں کا ہے، راوی، سیالکوٹ، وزیر آباد، سوات میں سیلاب کی تحقیقات ہونی چاہئے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی کا ہر فیصلہ قابل قبول ہے اور انہوں نے وجوہات بھی بتائی ہیں، سیاست میں کوئی دوست دشمن نہیں ہوتا، پالیسی چلتی ہے، وقت کے ساتھ سیاسی دشمن دوست اور دوست سیاسی حریف بھی بن جاتے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے کی جہاں تک بات ہے، فی الحال ہمارے پاس عدالت کا حکم امتناع ہے، فی الحال عمر ایوب ہی اپوزیشن لیڈر ہیں، بانی نے محمود اچکزئی کو نامزد ضرور کیا ہے کہ اگر عدالتی سٹے نہیں ملتے تو محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ایم این ایز عدالتی سزاں کے خلاف اپیلیں فائل کر چکے ہیں، چاہے ان پر اعتراض ہو، ایسی عدالتی مثالیں موجود ہیں کہ اگر سزا آپ کی غیر موجودگی میں ہوئی ہے تو آپ کے پاس اپیل کا حق موجود ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کاہ کہ ہم کہتے ہیں عدالتی سزاوں کے بعد ہمارے ایم این ایز کی نااہلی غلط بنیادوں پر کی گئی، میں سمجھتا ہوں بانی کے مقدمات عدالت والے نہیں سیاسی ہیں، ان کا حل بھی سیاسی نکلنا چاہئے۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا اس کے باوجود ہم نے مذاکرات کی بہت کوشش کی، ہم نے کمیٹی بنائی اور سیاسی لوگوں سے بات کرنے کے لیے اچکزئی کو اختیار دیا کہ جائیں سیاسی لوگوں سے بات کریں۔انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا ہے قوم، ملک، آزاد عدلیہ، جمہوریت کی خاطر میں بات کرنے کو تیار ہوں، ہمارا حکومت کے ساتھ بیٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی، آج ہم نے بائیکاٹ کرکے باہر عوامی اسمبلی لگائی، اس میں 13 ممبران نے تقریر کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتم لوگ بس غلاموں کی طرح سوچتے ہو،علی امین گنڈاپور جرمن سفیر کی ملاقات کا پیغام دینے والے اپنے ترجمان پر برس پڑے تم لوگ بس غلاموں کی طرح سوچتے ہو،علی امین گنڈاپور جرمن سفیر کی ملاقات کا پیغام دینے والے اپنے ترجمان پر برس پڑے ایف بی آر کی جانب سے بحریہ ٹاون کے شاپنگ مال کی نیلامی کا حکم واپس، عدالت نے کیس نمٹادیا سیلاب متاثرہ علاقوں میں مواصلات کا نظام اور بجلی فوری بحال کی جائے، وزیراعظم کی ہدایت وی لاگ میں غیر مناسب ریمارکس پر پی ٹی وی کے اینکر پرسن رضی دادا معطل،نوٹیفکیشن سب نیوز پر کالا باغ کی تعمیر سے متعلق علی امین کا بیان پارٹی پالیسی نہیں،اسد قیصر نے مخالفت کردی بالاج ٹیپو قتل کیس میں گوگی بٹ ذمہ دار قرار، جے آئی ٹی ذرائعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم