سربراہ پاک فضائیہ ظہیر احمد بابر سدھو سے ترک فضائیہ کے کمانڈر کی ملاقات ، پائیدار دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
سربراہ پاک فضائیہ ظہیر احمد بابر سدھو سے ترک فضائیہ کے کمانڈر کی ملاقات ، پائیدار دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ترک فضائیہ کے کمانڈر جنرل ضیا کمال کادیوگلو کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی دفاعی وفد نے سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ وفد کی ائیر ہیڈ کوارٹرز آمد پر انکا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ملاقات میں علاقائی سلامتی کی بدلتی صورتحال، موجودہ دفاعی تعاون میں پیشرفت اور دورِ جدید کی جنگ کے پیش نظر جدید عسکری شعبوں میں مشترکہ تعاون سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترک فضائیہ کے کمانڈر کی آمد پر پاک فضائیہ کے ایک چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ملاقات کے دوران سربراہ پاک فضائیہ نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین برادرانہ تعلقات کا ذکر کیا جوکہ مشترکہ مذہبی عقائد اور تزویراتی ہم اہنگی کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ قرابت داری کا موجِب ہیں۔ انہوں نے ترک کیڈٹس کے پہلے بیچ کی تربیت کے لیے پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان آمد کو دونوں فضائی افواج کے مابین پائیدار برادرانہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ یہ سنگ میل دونوں ممالک کے مابین موجودہ دفاعی شراکت داری میں ایک نئے باب کا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ باہمی اعتماد کے فروغ اور ایئر واریئرز کی جدید تربیت کے مشترکہ وژن کا غماز ہے۔ دونوں سربراہان نے مشترکہ تربیت، فضائی مشقوں اور ملٹی ڈومین آپریشنز سمیت متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
جنرل ضیا کمال کادیوگلو نے بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ایئر چیف کی متحرک اور دوراندیش قیادت میں پاک فضائیہ کی جانب سے پیش کردہ شاندار آپریشنل کارکردگی کو سراہا اور آپریشنل تیاریوں و قومی خودمختاری کے دفاع کے پاک فضائیہ کے عزم کی تعریف کی۔ انہوں نے ملٹی ڈومین وارفیئر کے طریقہ کار سے متعلق جامع تربیت کے حصول اور پاک فضائیہ کی ثابت شدہ آپریشنل حکمت عملیوں اور عسکری کامیابیوں سے استفادہ حاصل کرنے کی ترک فضائیہ کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ ترک فضائیہ کے کمانڈر نے پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ جنگ کے تجربات سے آپریشنل استفادہ حاصل کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا جس کے ذریعے ترک فضائیہ اپنی عسکری حکمت عملیوں کو مزید تقویت دینے کے ساتھ ساتھ مجموعی آپریشنل تیاریوں کو بہتر بنا سکے گی.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن روف عطا نے سپریم کورٹ کے رولز سے متعلق تجاویز ارسال کردی گئیں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن روف عطا نے سپریم کورٹ کے رولز سے متعلق تجاویز ارسال کردی گئیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی فل کورٹ میٹنگ کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی کسی نجی تنظیم یا عام افراد کو سیلاب متاثرین میں کھانا تقسیم کرنے سے نہیں روکا، عظمی بخاری بانی پی ٹی آئی کے بھانجے شاہ ریز خان کی درخواست ضمانت منظور سی ڈی اے مزدور یونین کے زیر اہتمام عید میلادالنبی کا عظیم الشان جلوس 6ستمبر کو برآمد ہوگا گورنر پنجاب نے جہیز سیلاب میں بہہ جانے پر9بچیوں کی شادی کی ذمہ داری اٹھا لیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ترک فضائیہ کے کمانڈر سربراہ پاک فضائیہ دفاعی تعلقات کو کے عزم کا اعادہ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ فضائیہ کی کے مابین کرنے کے
پڑھیں:
انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول اللہؐ کی دعوت توحید کے اثرات سے پریشان ہو کر جرگے کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آخر آپؐ کی دعوت کا مقصد کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو رسول اکرمؐ نے ان کے مزاج و نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دیا کہ ’’میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اگر تم اسے قبول کر لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوں گے۔‘‘ جناب نبی اکرمؐ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ غلبہ، قوت اور اقتدار کے سوا کسی اور زبان کو نہیں سمجھتے اس لیے آپؐ نے انہی کی زبان میں دعوت اسلام کے نتائج و فوائد سے انہیں آگاہ کیا۔ اور یہ بات خلاف واقعہ بھی نہ تھی اس لیے کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرنے کے بے شمار نتائج و منافع میں سے ایک منفعت یہ بھی تھی۔ چونکہ سوال کرنے والوں کے ہاں اس منفعت کی اہمیت زیادہ تھی اس لیے آنحضرتؐ نے اسی کا حوالہ دے کر ان کے سوال کا جواب مرحمت فرمایا۔اس پس منظر میں آج کے دور میں دعوتِ اسلام کی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیا جائے اور جناب رسالت مآبؐ کی سیرت طیبہ کو نسل انسانی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ترجیحات پر غور کیا جائے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات اور رسول اکرمؐ کے ارشادات و احکام کو زیادہ اہمیت کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے۔ اور انسانی معاشرہ کو بتایا جائے کہ انسانی حقوق کے تعین اور تحفظ کا جو معیار اور دائرہ کار اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال قبل دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، انسانی عقل تدریج و ترقی کے تمام مراحل طے کرنے اور مختلف نظام ہائے زندگی کا تجربہ کرنے کے باوجود اس کا کوئی متبادل سامنے نہیں لا سکی، اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔
آج کی دنیا میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی زبان سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سنی جانے والی زبان ہے، جبکہ ورلڈ میڈیا اور لابیوں نے اسے صرف زبان کی حد تک نہیں رہنے دیا بلکہ وقت کا موثر ترین ہتھیار بنا دیا ہے جو عالم اسلام اور تیسری دنیا کی اقوام کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔ اور مغرب جسے چاہتا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے شکنجے میں جکڑ کر انسانی حقوق کی چھری کے ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔ مغرب انسانی حقوق کے حوالہ سے جتنے بلنگ بانگ دعوے کر لے، مگر انسانی حقوق اور فری سوسائٹی کے مغربی تصور پر مبنی سولائزیشن نے نتائج و ثمرات کے لحاظ سے آج جو روپ دھار لیا ہے اس نے خود مغربی دانش وروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور مغربی معاشرہ میں جنسی انارکی اور فیملی سسٹم کی تباہی نے گورباچوف جیسے مدبر کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر غلطی کی ہے اور اب اسے گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ مثلاً اقتدار اور حکومت کو نبی اکرمؐ نے فرائض اور ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے اور قدم قدم پر اس ذمہ داری کی نزاکت اور سنگینی سے خبردار کیا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ حکمرانوں میں احساس ذمہ داری اور خداخوفی کی صورت میں ظاہر ہوا اور لوگ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کی بجائے اس سے بچنے میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ مگر مغرب نے اسے حقوق کی فہرست میں رکھ دیا اور اس حق کو حاصل کرنے کے لیے جو دوڑ لگتی ہے اس کے فوائد و نقصانات کا تناسب ہر ذی شعور پر واضح ہے۔ محنت، مزدوری اور ملازمت کے ذریعے روزی کمانا اور اہل خانہ کی کفالت کرنا رسول اکرمؐ کی تعلیمات کی رو سے فرائض کا حصہ ہے اور ڈیوٹی ہے جو گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر مغرب نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بے شمار افراد کے قتل ہوجانے کے باعث پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلاء کو پر کرنے کے لیے عورت کو گھر سے باہر لانے کی ضرورت محسوس کی تو ملازمت اور محنت و مزدور ی کی ڈیوٹی پر ’’حقوق‘‘ کا خوشنما لیبل چسپاں کر کے اس غریب کو ورغلا لیا۔ اور وہ ’’عقل کی پوری‘‘ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اسے کما کر کھلانے کی ڈیوٹی میں بھی شامل ہو کر خوش ہونے لگی کہ اب میں مردوں کے شانہ بشانہ ’’مساوی حقوق‘‘ سے بہرہ ور ہو گئی ہوں۔
(جاری ہے)