گواٹیمالا میں مایان تہذیب کا گمشدہ شہر دریافت
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
گواٹیمالا میں ایک قدم مایان شہر دریافت ہوا ہے جو کہ ماہرین کی جانب سے گمشدہ تصور کیا جارہا تھا۔
ماہرین نے اس شہر کو ’لوس اوبیلوس‘ کا نام دیا ہے۔ یہ شہر مایان تہذیب کی پرانی تاریخ اور پیچیدہ فنِ تعمیر کی حیران کن مثال پیش کرتا ہے۔
یہ شمالی گواٹیمالا کے قریب پیٹن خطے کے قریب دریافت ہوا ہے۔ یہ تقریباً 3,000 سال پرانا ہے اور Middle Preclassic دور سے (تقریباً 800–500 قبل مسیح) سے تعلق رکھتا ہے۔
اس شہر میں تقریباً 108 فٹ بلند ایک اہرام بھی پایا گیا ہے جس پر ابتدائی نقش موجود ہیں۔ اس میں قدرتی پانی کی نالیوں کا نظام بھی موجود ہے جو ایک پیچیدہ آبی نظام کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس میں انسان نما پتھریلے مجسمے بھی ملے ہیں جو ایک ممکنہ طور پر قدیم رسمی عبادت کی علامت کے طور پر موجود ہیں۔ یہ دریافت ایک نامعلوم شہری مثلث (Urban Triangle) کی صورت میں سامنے آئی ہے یعنی لوس اوبیلوس کے علاوہ دو اور قرب و جوار کے مقامات بھی ملے ہیں جو ممکنہ طور پر ایک مربوط ناحیاتی ساخت کا حصہ تھے۔
LiDAR ٹیکنالوجی نے گواٹیمالا کے پیٹن کے جنگلات میں 60,000 سے زائد پوشیدہ مأیان ڈھانچے دریافت کیے ہیں جیسے مکانات، محلات، بلند شاہرات اور دفاعی ساختیں جو کہ مغرب کی عام توقعات سے کہیں زیادہ آبادی اور شہری نظام کی نشاندہی کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :