Express News:
2026-07-24@09:04:14 GMT

گواٹیمالا میں مایان تہذیب کا گمشدہ شہر دریافت

اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT

گواٹیمالا میں ایک قدم مایان شہر دریافت ہوا ہے جو کہ ماہرین کی جانب سے گمشدہ تصور کیا جارہا تھا۔

ماہرین نے اس شہر کو ’لوس اوبیلوس‘ کا نام دیا ہے۔ یہ شہر مایان تہذیب کی پرانی تاریخ اور پیچیدہ فنِ تعمیر کی حیران کن مثال پیش کرتا ہے۔

یہ شمالی گواٹیمالا کے قریب پیٹن خطے کے قریب دریافت ہوا ہے۔ یہ تقریباً 3,000 سال پرانا ہے اور Middle Preclassic دور سے (تقریباً 800–500 قبل مسیح) سے تعلق رکھتا ہے۔ 

اس شہر میں تقریباً 108 فٹ بلند ایک اہرام بھی پایا گیا ہے جس پر ابتدائی نقش موجود ہیں۔ اس میں قدرتی پانی کی نالیوں کا نظام بھی موجود ہے جو ایک پیچیدہ آبی نظام کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اس میں انسان نما پتھریلے مجسمے بھی ملے ہیں جو ایک ممکنہ طور پر قدیم رسمی عبادت کی علامت کے طور پر موجود ہیں۔ یہ دریافت ایک نامعلوم شہری مثلث (Urban Triangle) کی صورت میں سامنے آئی ہے یعنی لوس اوبیلوس کے علاوہ دو اور قرب و جوار کے مقامات بھی ملے ہیں جو ممکنہ طور پر ایک مربوط ناحیاتی ساخت کا حصہ تھے۔ 

LiDAR ٹیکنالوجی نے گواٹیمالا کے پیٹن کے جنگلات میں 60,000 سے زائد پوشیدہ مأیان ڈھانچے دریافت کیے ہیں جیسے مکانات، محلات، بلند شاہرات اور دفاعی ساختیں جو کہ مغرب کی عام توقعات سے کہیں زیادہ آبادی اور شہری نظام کی نشاندہی کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت