وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر گجرات میں سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے جب کہ سیلابی پانی کے خطرے کے پیشِ نظر پنجاب کے پانچ بڑے شہروں کی واسا کی مشینری اور عملہ گجرات پہنچ چکا ہے۔

ترجمان حکومت پنجاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعلیٰ کے خصوصی حکم پر ہاؤسنگ، کمیونیکیشن، ورکس، لوکل گورنمنٹ اور اریگیشن کے پانچ صوبائی سیکریٹریز گجرات میں موجود ہیں، جنہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صورتحال مکمل کنٹرول میں آنے تک وہیں موجود رہیں اور تمام آپریشن کی نگرانی براہِ راست کریں۔

لاہور سمیت دیگر شہروں سے سینکڑوں واٹر پمپ، ایکسویٹرز، جنریٹرز، واٹر باؤزرز اور ایندھن کی فراہمی کے لیے سامان اور مشینری گجرات منتقل کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی 83 ٹیکنیکل اسٹاف کی بھی ہنگامی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ نکاسی آب اور شہریوں کی مدد کو یقینی بنایا جا سکے۔

لورین کے مقام سے سیلابی پانی شہر کی طرف داخل ہو رہا ہے، جس کا بہاؤ بھمبر کی طرف جانے والے قدرتی راستوں سے تیز ہو رہا ہے۔ سیلابی پانی کا رخ موڑنے کے لیے نالہ کھودنے اور 5 پمپ نصب کرنے کا کام جاری ہے جبکہ ہلسی نالے کی گنجائش بڑھانے کی کوشش بھی جاری ہے تاکہ پانی کا دباؤ کم کیا جا سکے۔

مزید برآں، 21 ارب روپے کے منظور شدہ نکاسی آب منصوبے پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت گجرات میں جدید سیوریج اور نکاسی آب کا انفراسٹرکچر بنایا جائے گا، جس میں انجینئرنگ کے جدید اصولوں کے مطابق سیلابی نالوں کا مکمل نظام شامل ہوگا۔

مختلف علاقوں جیسے گرین ٹاؤن، مکی محلہ، کالرا کلاں، ریلوے روڈ، اور پدھی کالونی کی صفائی اور نکاسی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے ڈسپوزل اسٹیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت کاروائی نے ان علاقوں کی کلیئرنس کو یقینی بنایا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گجرات میں

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا