گجرات میں سیلابی صورتحال برقرار، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہنگامی اقدامات کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر گجرات میں سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے جب کہ سیلابی پانی کے خطرے کے پیشِ نظر پنجاب کے پانچ بڑے شہروں کی واسا کی مشینری اور عملہ گجرات پہنچ چکا ہے۔
ترجمان حکومت پنجاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعلیٰ کے خصوصی حکم پر ہاؤسنگ، کمیونیکیشن، ورکس، لوکل گورنمنٹ اور اریگیشن کے پانچ صوبائی سیکریٹریز گجرات میں موجود ہیں، جنہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صورتحال مکمل کنٹرول میں آنے تک وہیں موجود رہیں اور تمام آپریشن کی نگرانی براہِ راست کریں۔
لاہور سمیت دیگر شہروں سے سینکڑوں واٹر پمپ، ایکسویٹرز، جنریٹرز، واٹر باؤزرز اور ایندھن کی فراہمی کے لیے سامان اور مشینری گجرات منتقل کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی 83 ٹیکنیکل اسٹاف کی بھی ہنگامی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ نکاسی آب اور شہریوں کی مدد کو یقینی بنایا جا سکے۔
لورین کے مقام سے سیلابی پانی شہر کی طرف داخل ہو رہا ہے، جس کا بہاؤ بھمبر کی طرف جانے والے قدرتی راستوں سے تیز ہو رہا ہے۔ سیلابی پانی کا رخ موڑنے کے لیے نالہ کھودنے اور 5 پمپ نصب کرنے کا کام جاری ہے جبکہ ہلسی نالے کی گنجائش بڑھانے کی کوشش بھی جاری ہے تاکہ پانی کا دباؤ کم کیا جا سکے۔
مزید برآں، 21 ارب روپے کے منظور شدہ نکاسی آب منصوبے پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت گجرات میں جدید سیوریج اور نکاسی آب کا انفراسٹرکچر بنایا جائے گا، جس میں انجینئرنگ کے جدید اصولوں کے مطابق سیلابی نالوں کا مکمل نظام شامل ہوگا۔
مختلف علاقوں جیسے گرین ٹاؤن، مکی محلہ، کالرا کلاں، ریلوے روڈ، اور پدھی کالونی کی صفائی اور نکاسی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ڈسپوزل اسٹیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت کاروائی نے ان علاقوں کی کلیئرنس کو یقینی بنایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گجرات میں
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔