امریکی نیوی سیلز کا شمالی کوریا میں خفیہ مشن ناکام، عام شہری ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ 2019 میں امریکی نیوی سیلز کا ایک خفیہ آپریشن شمالی کوریا میں بری طرح ناکام ہوا، جس کے نتیجے میں کئی شہری ہلاک ہوگئے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ مشن شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن کی جاسوسی کے لیے ’’سننے والے آلات‘‘ نصب کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا۔ تاہم کارروائی فوری طور پر بے نقاب ہوگئی اور امریکی کمانڈوز نے شہریوں کو نشانہ بنا دیا جو بظاہر غوطہ خوری میں مصروف تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن انتہائی حساس نوعیت کا تھا اور براہِ راست صدارتی منظوری درکار تھی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاہم دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اس کارروائی کا کوئی علم نہیں تھا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ مہینوں کی تیاریوں کے باوجود مشن بری طرح ناکام رہا۔ یہ وہی یونٹ تھا جس نے 2011 میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا۔ کمانڈوز آبدوزوں کے ذریعے شمالی کوریا پہنچے لیکن ایک چھوٹی کشتی کے عام افراد کی موجودگی نے ان کی موجودگی کو بے نقاب کردیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں مبینہ طور پر دو سے تین عام شہری مارے گئے۔
بعدازاں امریکی سیلز بحفاظت فرار ہوگئے اور تحقیقات کے باوجود ان ہلاکتوں کو ’’جائز‘‘ قرار دیا گیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی ایلیٹ فورسز دنیا بھر میں کس قدر خفیہ اور آزادانہ کارروائیاں کرتی ہیں، چاہے اس کے نتائج کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شمالی کوریا
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔