سیلاب سے تباہی: زرعی ایمرجنسی کا نفاذ، کسان کو بیج اور کھاد مفت دی جائے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
لاہور ( نیوزڈیسک) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سیلاب سے زیادہ نقصان پنجاب میں ہوا، پنجاب کا کسان سب سے زیادہ متاثر ہو گا، زرعی ایمرجنسی نافذ کر کے کسان کو بیج اور کھاد مفت یا آسان اقساط پر دی جائے۔
مظفر گڑھ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ لاہور اور قصور کا دورہ کیا، ملتان بھی جاؤں گا، سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان پنجاب میں ہوا، جنوبی پنجاب کے عوام بھی مشکل سے گزررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر قدرتی آفت میں تین مراحل ریسکیو، ریلیف اور بحالی و تعمیر نو ہوتے ہیں، قدرتی آفت کے بعد نقصان کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے، وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے مالی مدد کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے پہلے بھی وفاق نے مالی مدد پہنچائی، سیلابی پانی اب سندھ کی طرف بھی بڑھنا ہے، امید ہے وزیراعظم جلد میری تجویز پر غور کرکے متاثرین تک مالی مدد پہنچائیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں سے درخواست ہے کہ ہمیں فوری زرعی ایمرجنسی نافذ کرنی چاہئے، حکومت کسان کو بیج اورکھاد مفت میں دے یا آسان اقساط پر دے، زرعی ایمرجنسی کے اعلان سے کسانوں کو ریلیف مل سکتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ جب تک سیلاب ختم نہیں ہوتا کسانوں کا بجلی بل معاف کرنا چاہئے، پی ڈی ایم دور میں بطور وزیر خارجہ سیلاب متاثرین کیلئے نئے گھروں کا منصوبہ دیا تھا، ہمیں اس سیلاب میں بھی متاثرین کیلئے گھروں کا انتظام کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ اقوام متحدہ کی مقامی انتظامیہ کے ذریعے عالمی سطح پر سیلاب متاثرین کیلئے آواز بلند کرنی چاہئے، اس وقت سیاست کو بھول کر عوام کا ساتھ دینا چاہئے،عالمی سطح پر بھی بہت سے دوست چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہم عالمی سطح پر اس وقت آواز بلند نہیں کریں گے تو بہت دیر ہوجائے گی، یہ سیاسی بیان بازی یا آپسی اختلاف کا موقع نہیں ہے، پنجاب کا میڈیا اس سیلابی صورتحال میں مثبت رپورٹنگ کررہا ہے، میں امید کرتا ہوں سندھ کا میڈیا بھی پنجاب والوں سے کچھ سیکھے گا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ سیکٹر بھی سیلاب متاثرین کی مدد کررہا ہے، حکومت کے پاس مددکرنے کیلئے سب سے مؤثر ہتھیار بی آئی ایس پی پروگرام ہے، سیلابی صورتحال کو ایک سے دوہفتے ہوچکے ہیں، بھارت اب بھی دریاؤں میں پانی چھوڑرہا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہر کوئی اپنی کوشش کررہا ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت کرے، ہمیں آئندہ ایسی صورتحال کیلئے بھی میکانزم بنانے کا سوچنا ہوگا، اس وقت سب کی کوشش یہی ہے کہ متاثرین کی مدد کی جائے،
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ سے آزادی صحافت کی حمایت کرتی ہے، ہم اس وقت قدرتی آفت اورسیلابی صورتحال پر زور دینا چاہتے ہیں، اس وقت صرف سیلاب متاثرین کیلئے دورے کررہا ہوں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین کی زرعی ایمرجنسی متاثرین کیلئے بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔