کراچی: اتوار کے روز ہاکس بے پر ڈوبنے والے نوجوان کی لاش نکال لی گئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
ہاکس بے کے ساحل پر ڈوبنے والے نوجوان کی لاش سمندر سے نکال لی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح ہاکس بے سینڈز پٹ کے قریب 18 سالہ نوجوان علی حیدر ولد اعجاز حسین سمندر میں ڈوب گیا تھا۔ اطلاع ملنے پر ایدھی رضاکاروں نے لاش کی تلاش شروع کی تھی۔ تاہم، اندھیرے کے باعث تلاش کا عمل روک دیا گیا ۔
پیر کی صبح شروع کئے جانے والے ریسکیو آپریشن کے دوران دوپہر میں سمندر میں ڈوبنے والے نوجوان کی لاش نکال لی گئی جسکے بعد لاش کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے ضابطے کی کارروائی کے لیے ماڑی پور تھانے منتقل کیا گیا۔
ایس ایچ او سردار عباسی کے مطابق متوفی گلستان جوہر کا رہائشی تھا جو اتوار کے روز اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ہاکس بے سینڈز پٹ پر پکنک منانے آیا تھا۔ لاش قانونی کارروائی کے بعد ورثہ کے حوالے کردی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہاکس بے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔