اسلام آباد:۔ اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی ممبران کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے برائے مالی سال 2024-25 کے جمع کروانے کی حتمی تاریخ 31 دسمبر 2025 ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت تمام اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے ممبران کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے بشمول شریک حیات، زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے برائے مالی سال 2024-25 مجوزہ فارم-بی کی صورت میں مقررہ تاریخ سے پہلے یا 31 دسمبر 2025 تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروا دیں۔

سیکشن 137 کے مندرجات ذیل میں بھی دیے جاتے ہیں، سیکشن 137 اثاثہ جات اور واجبات کے گوشواروں کی فراہمی۔ (الف) ہر ممبر اسمبلی و سینیٹ سابقہ 30 جون تک کے اپنے بشمول شریک حیات و زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے بصورت مجوزہ فارم-بی ہر سال 31 دسمبر سے پہلے یا 31 دسمبر تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائے گا۔

(ب)سیکشن 137 کی ذیلی شق [2] کے تحت کمیشن ایک پریس ریلیز کے ذریعے ہر سال یکم جنوری کو مقررہ تاریخ تک مطلوبہ گوشوارے جمع نہ کروانے والوں کے نام شائع کرے گا۔

(ج)جنوری کو ایک حکم کے تحت کمیشن 15 جنوری تک مذکورہ گوشوارے جمع نہ کروانے والے اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی رکنیت معطل کر دے گا اور مذکورہ گوشوارے جمع نہ کروانے تک وہ پارلیمنٹ واسمبلی کی کسی بھی کاروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔(د)اگر کوئی ممبر اپنے پیش کردہ گوشواروں میں کسی قسم کی غلط معلومات فراہم کرنے کا مرتکب پایا گیا تو کمیشن سیکشن 137 کے تحت گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ سے 120 دن کے اندر اس بد عنوانی کے جرم کے ارتکاب کی پاداش میں کاروائی کرے گا۔

اس حوالے سے تیار کردہ ہدایات / راہنمائی کے ساتھ مقررہ فارم-بی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد ، متعلقہ صوبائی الیکشن کمشنر کے دفاتر، سینٹ سیکرٹریٹ ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سیکرٹریٹ سے مفت حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مزیدبرآں ، فارم-بی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ www.

ecp.gov.pk.سے بھی ڈاون لوڈ کیا جا سکتاہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا

ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔

 آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔

 قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ 

 وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔

 اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
 

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر