کراچی میں طوفانی بارش، مختلف مقامات پر شہری پھنس گئے، پاک فوج کا موثر ریسکیو آپریشن
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
طوفانی بارشوں کے باعث پانی کی سطح میں اضافے سے کراچی کے متعدد علاقوں میں شہری پھنس گئے، تاہم پاک فوج کی فوری اور موثر امدادی کارروائیوں نے صورتحال کو قابو میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاک فوج کی امدادی ٹیمیں ایمرجنسی بنیادوں پر متحرک ہوئیں اور متاثرہ افراد کی بروقت ریسکیو شروع کر دی گئی۔
پاک فوج کے جوان دن رات عوام کی حفاظت اور ریسکیو میں مصروف ہیں جبکہ پاکستان رینجرز سندھ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے سول انتظامیہ کے تعاون سے مختلف رہائشی علاقوں میں پانی کی نکاسی کا بھی کام کر رہے ہیں۔ خاص طور پر موٹر وے M9 اور صائمہ، سعدی ٹاؤن جیسے علاقوں میں پھنسے ہوئے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
فوجی دستے ٹریفک کی بحالی اور عوامی امداد کے لیے بھی مختلف علاقوں میں سرگرم عمل ہیں تاکہ روزمرہ زندگی کو جلد سے جلد معمول پر لایا جا سکے۔ متاثرین نے پاک فوج کی فوری اور مؤثر ریسکیو و ریلیف آپریشنز کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
کراچی اور گردونواح میں بارش کے تھمنے کے بعد بھی پاک فوج کی ریسکیو ٹیمیں عوام کے درمیان موجود رہیں گی اور انہیں اس مشکل وقت سے نکالنے کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علاقوں میں پاک فوج کی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔