وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے میجر عدنان اسلم کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے گزشتہ روز ایف سی لائن بنوں میں دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کی تھی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نماز جنازہ میں ان کے والد، سسر اور بہنیں موجود تھے جنہوں نے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار کیا۔ پاک فوج کے نوجوانوں نے شہادتوں کی نئی تاریخ رقم کی ہے، ہم پاک فوج کی قربانیوں پر اس کے شکرگزار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: میجر عدنان اسلم شہید کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم و عسکری قیادت کی شرکت

انہوں نے کہا کہ جو لوگ فوج کی قربانیوں کی تضحیک کررہے ہیں اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ہمارے جوان گھربار چھوڑ کر سرحدوں پر جاتے ہیں ان کی اور ان کے خاندانوں کی کیفیت کو سمجھیں، اگر ہم نے فتنے کی بیخ کنی نہیں کی تو اس قوم کے ساتھ اس سے بڑھ کر ظلم و زیادتی کوئی نہیں ہوگی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارا ملی اور سیاسی فرض ہے کہ ہم اس فتنے کو ختم کریں چاہے وہ پاکستان کے اندر سوشل میڈیا پر موجود ہوں یا باہر بیٹھے ہوں، جس طرح ہماری افواج اور ان کی لیڈرشپ کو مطعون کیا جارہا ہے وہ ناقابل برداشت ہے اور اس کا سر کچلنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: دورہ چین میں پاکستان کے کتنے معاہدے ہوئے اور کیا اہم یقین دہانیاں کروائی گئیں؟

وزیراعظم نے دورہ چین کے دوران معاہدے طے کرنے اور دورہ کامیاب بنانے پر حکام، سفارتکار اور کابینہ ممبران کو شاباش دی اور کہا کہ چین میں ہونے والی تجارتی کانفرنس کامیاب تھی۔ ماضی میں معاہدوں پر عمل درآمد نہیں ہوا اس بار ایسا ہونے نہیں دیں گے اور غیرضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ کل معدنیات کے شعبے میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں خزانے مدفن ہیں، امریکا سے اس شعبے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری آئے گی۔

اس موقع پر انہوں نے بحری امور کے وزیر چوہدری ملک انوار اور سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی والدہ کی رحلت پر تعزیت بھی کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان