امریکی کمپنیوں کیساتھ معدنیات کے شعبے میں معاہدے کیے، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری آئے گی، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے میجر عدنان اسلم کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے گزشتہ روز ایف سی لائن بنوں میں دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کی تھی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نماز جنازہ میں ان کے والد، سسر اور بہنیں موجود تھے جنہوں نے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار کیا۔ پاک فوج کے نوجوانوں نے شہادتوں کی نئی تاریخ رقم کی ہے، ہم پاک فوج کی قربانیوں پر اس کے شکرگزار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: میجر عدنان اسلم شہید کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم و عسکری قیادت کی شرکت
انہوں نے کہا کہ جو لوگ فوج کی قربانیوں کی تضحیک کررہے ہیں اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ہمارے جوان گھربار چھوڑ کر سرحدوں پر جاتے ہیں ان کی اور ان کے خاندانوں کی کیفیت کو سمجھیں، اگر ہم نے فتنے کی بیخ کنی نہیں کی تو اس قوم کے ساتھ اس سے بڑھ کر ظلم و زیادتی کوئی نہیں ہوگی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارا ملی اور سیاسی فرض ہے کہ ہم اس فتنے کو ختم کریں چاہے وہ پاکستان کے اندر سوشل میڈیا پر موجود ہوں یا باہر بیٹھے ہوں، جس طرح ہماری افواج اور ان کی لیڈرشپ کو مطعون کیا جارہا ہے وہ ناقابل برداشت ہے اور اس کا سر کچلنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: دورہ چین میں پاکستان کے کتنے معاہدے ہوئے اور کیا اہم یقین دہانیاں کروائی گئیں؟
وزیراعظم نے دورہ چین کے دوران معاہدے طے کرنے اور دورہ کامیاب بنانے پر حکام، سفارتکار اور کابینہ ممبران کو شاباش دی اور کہا کہ چین میں ہونے والی تجارتی کانفرنس کامیاب تھی۔ ماضی میں معاہدوں پر عمل درآمد نہیں ہوا اس بار ایسا ہونے نہیں دیں گے اور غیرضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ کل معدنیات کے شعبے میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں خزانے مدفن ہیں، امریکا سے اس شعبے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری آئے گی۔
اس موقع پر انہوں نے بحری امور کے وزیر چوہدری ملک انوار اور سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی والدہ کی رحلت پر تعزیت بھی کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔