اسلام آباد(نیوز ڈیسک) صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں جمہوری اقدار اور اصولوں کے تحفظ اور فروغ کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں صدر مملکت اور وزیراعظم نے جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے کیلئے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ جمہوریت سے ہی ہم سماجی و اقتصادی انصاف، آزادیِ اظہار، اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا سکتے ہیں، جمہوریت ہی وہ نظام ہے جو شہریوں کو بااختیار بناتا ہے، بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور سیاسی، معاشی و سماجی شمولیت کو فروغ دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سب سے بڑی جمہوری کامیابی 1973 کا آئین ہے جو مساوات اور انفرادی آزادیوں کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور قومی یکجہتی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جمہوریت صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے جو رواداری، مخالف آراء کے احترام اور انفرادی و اجتماعی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ آزمائشوں سے بھرپور رہی ہے لیکن اسے ہمیشہ دوراندیش قائدین کی رہنمائی حاصل رہی ہے جن میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نمایاں ہیں، جن کی قربانیوں نے جمہوری اداروں کی بحالی اور استحکام کی بنیاد رکھی، ان رہنماؤں کا ورثہ ہمیں جمہوری اقدار کے تسلسل کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ صرف جمہوری نظام کے ذریعے ہی مساوات، سماجی و اقتصادی انصاف، اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ آج ہمیں اپنے جمہوری اداروں کو مزید مضبوط بنانے، مؤثر اصلاحات کرنے اور اجتماعی طور پر جمہوریت کے استحکام کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمہوری اقدار کے فروغ اور تحفظ کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی تاکہ جمہوریت ایک مضبوط، بااختیار اور جامع پاکستان کیلئے رہنما قوت بنی رہے۔

وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ جمہوریت کا عالمی دن ہر سال 15 ستمبر کو دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے تحت منایا جاتا ہے، یہ دن عالمی سطح پر جمہوریت کی نظام حکومت کے طور پر تنوع اور افادیت پر غور و فکر کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت بنیادی طور پر لوگوں کی آواز اور لوگوں کی نظام حکومت میں شمولیت کا نام ہے، پاکستان میں جمہوری نظام حکومت کے نشوونما میں 1973ء کے آئین کی کلیدی اور نمایاں حیثیت ہے، جمہوری اداروں میں پارلیمان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہ ادارہ عوامی و ملکی مفاد کے تحفظ کیلئے ہر طرح کی قانون سازی کرنے کا مجاز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کے تحت پارلیمنٹ اجتماعی دانش کے مطابق عوامی افادیت کے قوانین پاس کرتی ہے جس پر حکومت عمل درآمد کرتی ہے، 1973ء کا آئین آرٹیکل 25 کے تحت پاکستان کے ہر شہری کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور ان کی قانون کے سامنے برابری کو یقینی بناتا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ شہریوں کی انفرادی سطح کے علاوہ آئین پاکستان، تمام صوبوں کو برابری کی حیثیت دیتے ہوئے وفاق میں مؤثر کردار ادا کرنے کی بنیاد رکھتا ہے، آئین پاکستان بنیادی حقوق کو نہ صرف بیان کرتا ہے بلکہ انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان تمام شعبہ ہائے زندگی بالخصوص پارلیمنٹ میں عورتوں کی شمولیت کو بھی یقینی بناتا ہے اور اقلیتوں کی نمائندگی اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے بھی خصوصی اقدامات ہمارے آئین میں درج ہیں، جن میں اقلیتوں کی پارلیمنٹ میں شمولیت سے لے کر انکی مذہبی آزادی کا تحفظ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کا تحفظ، آزادی، سماجی برابری و برداشت، قانون کی حکمرانی اور قومی اتحاد سے کوئی بھی ملک اپنے مسائل حل کر سکتا ہے، دنیا کا کوئی بھی ملک عصر حاضر کے چیلنجز اور مشکلات سے مؤثر طور پر نبرد آزما صرف اسی طور پر ہو سکتا ہے جب بنیادی جمہوری اصولوں کی پیروی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پاکستان اقوام متحدہ کے تحت اصولوں اور تمام عالمی معاہدوں میں جمہوری اقدار کی پاسداری اور فروغ کیلئے ہمیشہ کام کرتا رہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ آج کے اہم دن پر پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ جمہوری اصولوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ اور ترقی یافتہ مستقبل کی تعمیر کیلئے عوام، ادارے اور حکومت مل کر کام کریں گے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جمہوری اداروں کا کہنا تھا کہ فراہم کرتا ہے آئین پاکستان جمہوری اقدار بنیادی حقوق میں جمہوری شہباز شریف کہ جمہوریت صدر مملکت کہ جمہوری نے کہا کہ کو یقینی انہوں نے کے تحفظ ہے اور اور ان کے تحت

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا

تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔مہمان ٹیم نے پہلےکھیلتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹ پر 231 رنز اسکور کیے۔آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین 53، جوش انگلس 51 اور میٹ رنشا 43 رنز بنا کر نمایاں رہے۔پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین آفریدی نے 3 جب کہ حارث رؤف ، عرفات منہاس اور ابرار احمد نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف پہلا ون ڈے جیتنے والی ٹیم کو ہی برقرار رکھا ہے۔خیال رہے کہ پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے شکست دی تھی، تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ