غزہ پر قابض اسرائیل کے تازہ حملوں میں 83 فلسطینی شہید، 223 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
غزہ پٹی پر اسرائیلی فوج کی جانب سے قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید 83 فلسطینی شہید ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کے بےگھر فلسطینیوں کے اسکولوں، اسپتالوں، کیمپوں، خیموں اور خوراک تقسیم کرنے والے مرکز پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں بچوں اور عورتوں سمیت کم از کم 83 فلسطینی شہید اور 223 زخمی ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق صیہونی فوج نے غزہ میں خوراک کی تلاش میں نکلنے والے نہتے شہریوں پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں خوراک کے حصول کے لیے باہر نکلنے والے مزید 14 فلسطینی شہید اور 37 زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 223 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 6 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، اس طرح شدید غذائی بحران کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 399 تک جا پہنچی ہے، جن میں 140 بچے شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق غزہ میں قحط کے باضابطہ اعلان کے بعد اب تک 115 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں 25 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اعلان اقوام متحدہ کے تعاون سے قائم بھوک پر نظر رکھنے والے نظام انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) نے گزشتہ ماہ کیا تھا۔
غزہ کی حکومت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 20 ہزار سے زیادہ بچے شہید ہو چکے ہیں، شہید ہونے والوں میں کم از کم ایک ہزار بچے ایسے تھے جن کی عمر ایک سال بھی نہیں تھی۔ ان میں تقریباً آدھے وہ نومولود بچے تھے جو حالیہ جنگ کے دوران پیدا ہوئے اور اسرائیلی فوج کے حملوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
وزارت نے بتایا کہ 27 مئی سے اب تک انسانی امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 2,444 ہو گئی ہے، جب کہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 17,831 سے تجاوز کر گئی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ غزہ میں 18 مارچ سے دوبارہ شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 12,059 سے تجاوز کر گئی ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک 51,278 سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔
فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 22 ماہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 662 فلسطینی کھلاڑی اور اسپورٹس عہدے دار شہید ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی فوج نے 22 ماہ سے جاری جنگ میں 248 فلسطینی صحافی شہید کیا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 64 ہزار 605 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہیں۔
حکومتی میڈیا دفتر کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے صیہونی فوج کی بمباری میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 83,740 سے تجاوز کر چکی ہے، ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کو مردہ قرار دیا جا رہا ہے۔
غزہ وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث زخمیوں کی تعداد 163,316 تک پہنچ گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: اسرائیلی حملوں میں کی مجموعی تعداد فلسطینی شہید کے نتیجے میں سے تجاوز کر کے مطابق کے دوران شہید ہو گئی ہے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔