بالی ووڈ کی معروف اداکارہ ایشوریا رائے بچن نے دہلی ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ فحش مواد میں ان کی شناخت، تصویر اور نام کے غیر مجاز استعمال کو روکا جا سکے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اداکارہ نے یہ قدم اپنی شہرت اور وقار کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف اٹھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طلاق کی افواہوں کی تردید، ایشوریا رائے کی ابھیشیک بچن کے ساتھ نئی پوسٹ وائرل

درخواست پر ابتدائی سماعت کے دوران عدالت نے عندیہ دیا کہ وہ ممکنہ طور پر ایک عبوری حکم جاری کرے گی جس کے تحت آن لائن پلیٹ فارمز اور افراد کو اداکارہ کی شناخت کے کسی بھی قسم کے غیر قانونی استعمال سے روکا جائے گا۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسے تمام لنکس اور مواد کو ہٹانے کے احکامات جاری کیے جائیں گے جو ایشوریا رائے کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

غیر حقیقی اور نازیبا تصاویر گردش میں ہیں، وکیل کا مؤقف ایشوریا رائے کی اے آئی کی مدد سے بنائی گئی تصویر۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایشوریا رائے کا نام اور چہرہ استعمال کر کے غیر حقیقی، قابل اعتراض اور نازیبا تصاویر تیار کی گئی ہیں جو انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔

ایشوریا رائے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ان کا نام اور تصویر لوگوں کی جنسی تسکین کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

درخواست میں گوگل سمیت متعدد ویب سائٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو فریق بنایا گیا ہے

حکومتی ادارے بھی فریق

درخواست میں ہندوستانی حکومت کے ادارے وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے تاکہ اس معاملے میں ان کی قانونی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔

مزید پڑھیے: کیا ایشوریا رائے نے اپنے نام سے ’بچن‘ ہٹادیا؟

ایشوریا رائے کی اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ایک اور تصویر۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے اس نوعیت کا مواد تیار کرنا نہ صرف ان کے پبلسٹی رائٹس یعنی شخصیت سے جڑے قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ان کی عزت نفس پر بھی حملہ ہے۔

ایشوریا رائے کی ایک اور فیک تصویر۔

ایشوریا رائے نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کے نام، آواز، چہرے اور مخصوص اندازِ گفتگو کو کسی بھی غیر اخلاقی یا نازیبا انداز میں استعمال کرنے سے روکا جائے۔

آئندہ سماعتیں

عدالت نے مقدمے کو 7 نومبر کو جوائنٹ رجسٹرار کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ مزید کارروائی 15 جنوری 2026 کو ہوگی۔

مزید پڑھیں: ’ہرگز سمجھوتا نہ کریں‘ ایشوریا رائے کا خواتین کو پیغام

یاد رہے کہ ایشوریا رائے اس نوعیت کا قانونی قدم اٹھانے والی پہلی بالی ووڈ اداکارہ نہیں ہیں۔ اس سے قبل جیکی شروف اور انیل کپور جیسے اداکار بھی اپنے پرسنالٹی رائٹس کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کر چکے ہیں تاکہ ان کی شناخت کو تجارتی یا غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایشوریا رائے ایشوریا رائے عدالت پہنچ گئیں ایشوریا رائے کی اے آئی تصاویر ایشوریا رائے کی فحش تصاویر بالی ووڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایشوریا رائے ایشوریا رائے کی اے ا ئی تصاویر ایشوریا رائے کی فحش تصاویر بالی ووڈ ایشوریا رائے کی رائے کی ا کے لیے

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا

اسلام آباد:

ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام