بچوں کو لاحق ہونے والی بارہ بیماریوں میں تیرویں مہلک ترین بیماری کا اضافہ ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بچوں کو لاحق ہونے والی بارہ بیماریوں میں تیرویں مہلک ترین بیماری سروائیکل کینسر کا اضافہ کیا گیا ہے۔

سروائیکل کینسر کی جان لیوا بیماری خواتین کو نشانہ بناتی ہے۔ ایچ پی وی وائرس بچہ دانی کے منہ کے کینسر (سروائیکل کینسر) کی بڑی وجہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 9 سال سے 14 سال عمر کی لڑکیوں کو سروائیکل کینسر سے بچانے کی ویکسینیشن مہم پندرہ ستمبر سے شروع کی جارہی ہے۔ 

ضلع راولپنڈی میں 15 ستمبر سے 27 ستمبر تک 3 لاکھ 87.

ہزار 334 بچیوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی نے ویکسینیشن کمپئین کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی نے  HPV ویکسین مہم کا شیڈول بھی جاری کردیا ہے۔

مہم ضلع کی تمام 9 تحصیلوں اور 212 یونین کونسلوں میں چلائی جائے گی۔ راولپنڈی کی تخمینہ آبادی 2025 میں 63 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ 303 آؤٹ ریچ موبائل ٹیمیں ویکسینیشن مہم میں حصہ لیں گی جبکہ ضلع بھر میں 19 مقررہ ویکسینیشن مراکز بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔

ویکسینیشن سنٹرز میں 5 ہزار 700 بچیوں کو ویکسین دی جائے گی اور مہم کے لیے 322 ویکسی نیٹرز اور 322 ٹیم اسسٹنٹس تعینات ہونگے۔ 625 سوشل موبلائزرز کمیونٹی میں آگاہی مہم چلائی جائے گی۔

علاوہ ازیں 212 یونین کونسلوں میں فرسٹ لیول سپروائزر تعینات کر دیے گئے ہیں اور 27 سیکنڈ لیول سپروائزرز مہم کی نگرانی کریں گے۔ ویکسین کے بعد ممکنہ مضر اثرات (AEFI) سے نمٹنے کے لیے فوکل پرسن بھی تعینات کیا گیا ہے۔

مہم کے دوران طبی فضلے کو ٹھکانے لگانے کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر احسان غنی نے والدین اور اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ ہر اہل بچی کو یہ زندگی بچانے والی ویکسین لگوانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے بچوں کی صحت ایک مشترکہ امانت ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سروائیکل کینسر جائے گی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق