چنیوٹ سے بلین ڈالرز مالیت کا لوہا 2 سے 3 ماہ میں نکلنا شروع ہو جائے گا، صوبائی وزیر معدنیات شیر علی گورچانی
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
صوبائی وزیر برائے معدنیات شیر علی گورچانی نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام کے لیے خوشخبری ہے کہ چینوٹ سے دریافت ہونے والے 266 ملین میٹرک ٹن آئرن (لوہا) کی آئندہ 2 سے 3 ماہ میں نیلامی کر دی جائے گی۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں یہ منصوبہ رکا ہوا تھا، تاہم اب اسے مکمل کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: سونا: اٹک سے اربوں روپے کے ذخائر مل گئے
صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں 56 کمپنیوں کے کیس کے دوران ایک جرمن کمپنی یہاں کام کر رہی تھی جس پر کیس بنا دیا گیا تھا۔ ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے کمپنی کو 56 کروڑ روپے دینا پڑے جو حکومت نے ادا کر دیے ہیں۔
ان کے مطابق آئرن نکالنے کی فزیبلٹی رپورٹ حکومت کے پاس آ چکی ہے اور جرمن کمپنی اس کو ٹینڈر آؤٹ کرنے کی رپورٹ جلد جاری کرے گی۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کی نیلامی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید پڑھیں: اٹک: دریائے سندھ سے غیرقانونی طور پر سونا نکالنے والوں کے گرد گھیرا تنگ، مقدمہ درج
انہوں نے بتایا کہ اٹک میں دریافت ہونے والے سونے کی دوبارہ رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔ نیسپاک کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہر بلاک کا دوبارہ تخمینہ لگایا جائے تاکہ مقدار کی تصدیق ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ 3 ماہ کے اندر مکمل رپورٹ موصول ہو جائے گی، جس کے بعد عالمی سطح پر اس کے ٹینڈر کا عمل شروع کیا جائے گا۔
شیر علی گورچانی کے مطابق ضلع اٹک میں دریافت ہونے والے 28 لاکھ تولہ سونے کے ذخائر کی حفاظت کے لیے وہاں دفعہ 144 نافذ ہے تاکہ کسی قسم کی چوری یا غیر قانونی سرگرمی نہ ہو۔ خیبرپختونخوا سے چوری کی وارداتیں ہوتی رہی ہیں مگر اب ان پر قابو پا لیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹک سونا پنجاب چینوٹ خوشخبری شیر علی گورچانی صوبائی وزیر برائے معدنیات لوہا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اٹک سونا چینوٹ شیر علی گورچانی صوبائی وزیر برائے معدنیات لوہا شیر علی گورچانی
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔