اسلام آباد،یو این ویمن اور نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کا دو روزہ مکالمہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
اسلام آباد (صغیر چوہدری)اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ویمن نے نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے تعاون سے دو روزہ مکالمے کا آغاز کر دیا۔ مکالمے کا موضوع تھا: ’’کیئر سسٹمز میں تبدیلی: پاکستان میں معاشی ترقی اور سماجی مساوات کا روڈمیپ‘‘۔
افتتاحی اجلاس میں مقررین نے کہا کہ خواتین کی بلا معاوضہ محنت کو تسلیم کرنا اور دیکھ بھال کے شعبے کو باضابطہ معیشت کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
این سی ایس ڈبلیو کی قائم مقام چیئرپرسن املیہ اظہر نے کہا کہ یہ صرف خدمات کی فراہمی کا معاملہ نہیں بلکہ خواتین کو وہ عزت و وقار دینا ہے جس کی وہ حقدار ہیں۔ یو این ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے کہا کہ ایک جامع کیئر سسٹم ایسی سوسائٹی کا خواب ہے جہاں نگہداشت کو ترقی کی بنیاد سمجھا جائے۔
نجی سیلولر کمپنی جاز کے سی ای او کاظم مجید نے کہا کہ نجی شعبے پر ذمہ داری ہے کہ کیئر کو چیلنج کے بجائے موقع بنایا جائے، اس سے نہ صرف خواتین کی شمولیت بڑھے گی بلکہ معیشت بھی مستحکم ہوگی۔ آسیان انٹر پارلیمنٹری اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ کیئر ایجنڈے پر پاکستان کا قائدانہ کردار پورے خطے کے لیے مثال ہے۔
اجلاس میں سماجی و معاشی پالیسیوں، باوقار کام کے فروغ اور نجی و سرکاری شراکت داری کے ذریعے پائیدار کیئر سسٹم کی تشکیل پر گفتگو کی گئی۔ مکالمے کے اختتام پر ایک پالیسی پیپر جاری کیا جائے گا جو پاکستان کے پہلے ’’کیئر اکانومی روڈمیپ‘‘ کی بنیاد فراہم کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔