انڈے پڑنے کی وائرل ویڈیو پر چاہت فتح علی خان کا ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
منفرد انداز میں گائیکی کیلئے مشہور سوشل میڈیا اسٹار چاہت فتح علی خان کا خود پر انڈے پھینکے جانے کی وائرل ویڈیو پر ردعمل سامنے آگیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں چاہت نے بتایا کہ انڈے پڑنے کی یہ ویڈیو 3 ماہ پرانی ہے جو اب منظرِ عام پر آئی اور وائرل ہوئی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کی مذمت اور ہمدردی کرنے والے مداحوں کا دل سے شکریہ ادا کیا۔
https://www.
چاہت نے بتایا کہ 3 ماہ قبل پیش آنے والے اس واقعے کے بعد انہیں مخلتف نمبرز سے کال موصول ہوئیں جن میں انہیں دھمکیاں دی گئیں۔
https://www.instagram.com/reel/DOep_2kDPix/?utm_source=ig_web_copy_link
انہوں نے بتایا کہ کالز پر ان سے سوال کیا گیا کہ ’بدوبدی چوٹ زیادہ تو نہیں لگی؟‘
چاہت فتح علی خان کا کہنا تھا کہ وہ ان نمبرز کو پولیس کو دیں گے جو ان لوگوں کیخلاف کارروائی کرے گی۔
https://www.instagram.com/reel/DOerVwtjL7m/?utm_source=ig_web_copy_link
یاد رہے کہ چاہت فتح علی خان پر ایک کیفے کی اوپنگ کے بعد کیفے کے باہر 2 نامعلوم شخص ان کے سر پر انڈے مار کر فرار ہوگئے تاہم یہ منظر کیمرے میں ریکارڈ ہوگیا اور اب یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چاہت فتح علی خان
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔