کیا پاکستان کا بجٹ سیلاب کے لیے تیار ہے؟ آئی ایم ایف
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے آئندہ بجٹ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ کیا پاکستان کا بجٹ موسمیاتی تبدیلیوں اور ممکنہ سیلاب جیسے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔
آئی ایم ایف کی نمائندہ جولیا کوزیک نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کو نہ صرف پائیدار بلکہ حقیقت پسندانہ بجٹ پیش کرنا ہوگا، جس میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی جامع منصوبہ بندی شامل ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے قرض کا انحصار پچھلے پروگرام پر مکمل عملدرآمد پر ہے، اور اصلاحات کے ساتھ مالیاتی نظم و ضبط بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف پاکستان سے صرف وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتا ہے — خاص طور پر ان چیلنجز کے لیے جو ہر سال سیلاب کی صورت میں ملک کو درپیش ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔