پی آئی اے انجینئرنگ کے معاملات میں 22 ارب روپے سے زائد نقصان کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
کراچی:
آڈیٹرجنرل نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے انجینئرنگ کے دو معاملات میں 22 ارب روپے سے زائد نقصان کا انکشاف کیا ہے۔
آڈٹ جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 25-2024 میں پی آئی کے انجینئرنگ کے دو معاملات میں نقصان کا انکشاف کیا گیا ہے، ایک آڈٹ پیرا کے مطابق 14 ارب روپے سے زائد کا نقصان گراؤنڈطیاروں کی مد میں ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نقصان مذکورہ طیاروں کے چیکس کی ٹائم لائن پر عمل درآمد نہ ہونے اور فیل انجنوں کے بروقت ڈسپوزل نہ کرنے سے ہوا، طیاروں میں پی آئی اے کے ملکیتی 6 بوئنگ 777 اور لیز پرلیے گئے موجود2 اے ٹی آر72شامل ہیں۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بوئنگ طیارے 11 مارچ 2020 سے یکم مارچ 2021 کی مدت میں مختلف عرصے کے لیےگراونڈ رہے، آڈیٹرز نے ایس او پی کو مدنظر نہ رکھے جانے پر مبنی اس نقصان کی آبزرویشن آڈٹ برائے 2022 میں دی ہے۔
آڈٹ پیرا میں 25 دیگر مستقل گراؤنڈ طیاروں کے انجنوں کے باعث 6 ارب روپے نقصان کا بھی ذکر کیا گیا ہے، مذکورہ نقصان ان انجنوں کو بروقت استعمال نہ کرنے یا فروخت نہ کیے جانے کے باعث ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان طیاروں کی مد میں سی اے اے کو 3 ارب روپے کے لگ بھگ ادا کیے گئے اور پارکنگ چارجز کا نقصان علیحدہ سے ہوا، اس نقصان کا ذکر پی آئی اے کے 2008 تا 2017 کے اسپیشل آڈٹ سے تاحال چلا آ رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ جنوری 2025 میں بھی معاملے کے لیے ڈی اے سی اجلاس طلب کرنے کے باوجود اجلاس نہیں ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نقصان کا ارب روپے گیا ہے
پڑھیں:
اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔