بوریوالا میں بارات سیلابی ریلے میں پھنس گئی، ریسکیو ٹیم نے محفوظ مقام پر منتقل کیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
بوریوالا میں بارات سیلابی ریلے میں پھنس گئی، ریسکیو ٹیم نے محفوظ مقام پر منتقل کیا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 September, 2025 سب نیوز
بوریوالا(سب نیوز)دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث بوریوالا کے نواحی علاقے ساہوکا کے قریب ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جب دلہا اور اس کے باراتی سیلابی پانی میں پھنس گئے۔دلہا اپنی بارات عارفوالا لے کر جا رہا تھا کہ اچانک پانی کے ریلے نے ان کا راستہ روک لیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق باراتیوں نے فوری طور پر ریسکیو اہلکاروں سے مدد طلب کی، جس پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور باراتیوں سمیت دلہا کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔خوش قسمتی سے واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔مقامی افراد کے مطابق سیلابی ریلوں نے علاقے کی بستیوں کا زمینی رابطہ منقطع کر رکھا ہے جس کے باعث نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔
ریسکیو اہلکار مسلسل کشتیاں اور دیگر ذرائع استعمال کر کے متاثرہ لوگوں کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔یاد رہے کہ دریائے ستلج اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے سیلابی صورتحال جاری ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا کی جانب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے معاونت کی فراہمی امریکا کی جانب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے معاونت کی فراہمی راول ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پر اسپل ویز کھول دیے گئے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل طلب، اپوزیشن نے خود کو نئی آزمائش میں مبتلا کرلیا معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت جنگی ساز و سامان کے جعلی ماڈلز بنانے پر مجبور جلال پور پیر والا میں سیلاب سے صورتحال سنگین، موٹروے ایم 5ٹریفک کیلئے بند وزیراعظم شہباز شریف یو این جنرل اسمبلی میں شرکت کیلئے 22ستمبر کو امریکہ جائیں گے،ذرائعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔