مظفر گڑھ میں لوڈر رکشے کی موٹر سائیکل کو ٹکر سے علاقے کا امیر ترین بھکاری جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
مظفر گڑھ میں لوڈر رکشے کی موٹر سائیکل کو ٹکر سے علاقے کا امیر ترین بھکاری جاں بحق WhatsAppFacebookTwitter 0 14 September, 2025 سب نیوز
مظفرگڑھ (سب نیوز)موضع جھینگر میں لوڈر رکشے کی موٹرسائیکل کو ٹکر سے علاقے کا امیر ترین شوکت بھکاری جاں بحق ہوگیا۔اہل علاقہ کے مطابق شوکت بھکاری 3 بچوں کا باپ تھا، شوکت بھکاری اردو، پنجابی اور انگریزی روانی سے بولتا تھا اور وہ کئی ایکڑ زرعی زمین کا بھی مالک تھا۔
کئی سال قبل وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں اس نے خود اعتراف کیا تھا کہ وہ بھیک مانگتے مانگتے لکھ پتی بن چکا ہے۔شوکت کا ویڈیو میں کہنا تھا کہ وہ روزانہ ملتان سے ایک ہزار روپے کماتا ہے اور اس طرح مہینے میں 30 ہزار روپے آرام سے کما لیتا ہے جب کہ یہ ساری رقم بینک اکاونٹ میں جمع کراتا ہے۔اس کا مزید کہنا ہے کہ آج کل کے دور میں ایک روپیہ کسی کی جیب میں کھلا نہیں ہوتا اسی لیے لوگ مجھے 10 سے 20 روپے دے دیتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کپ ، پاکستان نے بھارت کو جیت کیلئے 128رنز کا ہدف دیدیا ایشیا کپ ، پاکستان نے بھارت کو جیت کیلئے 128رنز کا ہدف دیدیا پاکستان سے ہار کا خوف، بھارتی پوجا پاٹ پر اتر آئے کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی طرف سے متاثرین سیلاب میں امدادی سامان کی تقسیم پنجاب میں تباہی کے بعد بپھرے ریلے سندھ میں داخل، گڈوبیراج پر اونچے درجے کا سیلاب پاکستان و مصر کے وزرائے خارجہ کا فلسطینی کاز کیلئے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ موجودہ حکومت کے 16ماہ میں قرضوں میں 13ہزار 78ارب روپے کا اضافہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔