سنجے منجریکر نے کن پاکستانی کھلاڑیوں کو بھارت کیلیے خطرہ قرار دے دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
سنجے منجریکر نے کن پاکستانی کھلاڑیوں کو بھارت کیلیے خطرہ قرار دے دیا؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 14 September, 2025 سب نیوز
دبئی (آئی پی ایس) ایشیا کپ 2025 کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا آج ہوگا جس کے حوالے سے سابق کرکٹرز بھی اپنا اپنا تجزیہ پیش کررہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سابق بھارتی کرکٹر اور کمنٹیٹر سنجے منجریکر نے پاکستانی اسپنرز کو بھارتی ٹیم کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ دبئی کی وکٹس پر پاکستانی اسپن بولنگ اٹیک بھارتی بلے بازوں کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔
ورلڈ کلاس فاسٹ بولرز کے حوالے سے مشہور پاکستانی ٹیم نے یو اے ای کی کنڈیشنز کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرکے اسپن پر زیادہ انحصار کیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردوحہ پر اسرائیل حملہ امن معاہدہ خطرے میں ڈال سکتا ہے، یورپی ممالک کا انتباہ توجہ صرف ایک میچ پر نہیں، ایشیا کپ جیتنے پر ہے، صائم ایوب ویژن پاکستان منصوبہ ،نوجوانوں کے لئے امید کی نوید ،شاہد آفریدی برانڈ ایمبیسڈر بن گئے ایشیا کپ: بی سی سی آئی عہدیدار پاک بھارت میچ سے قبل منظر عام سے غائب ہو گئے ایشیا کپ،پاکستان کا عمان کو جیت کیلئے 161رنز کا ہدف ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے پاکستان کو نگرانی کی فہرست سے نکال دیا ایشیا کپ: پاک بھارت میچ پر پابندی کی درخواست، بھارتی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔