data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی : انسدادِ دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے حوالے سے نہایت سخت ایس او پیز جاری کردی ہیں۔

عدالت نے یہ ہدایات ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں جاری کیں، جو پیرا نمبر 11 اور 12 پر مبنی ہیں۔ ان ایس او پیز کو عدالت کے اندر اور باہر نمایاں مقامات پر آویزاں کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ تمام افراد ان سے آگاہ رہیں۔

عدالتی ہدایات کے مطابق ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والی کارروائی کی ریکارڈنگ صرف عدالت خود کر سکے گی۔ کسی بھی دوسرے شخص کو اس کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت کے اندر موبائل فون یا کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ ڈیوائس لے جانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مزید برآں عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کوئی شخص ویڈیو لنک کارروائی کی غیرقانونی ریکارڈنگ کرتے ہوئے پایا گیا تو اس کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص اس کارروائی کا ٹرانسکرپٹ حاصل کرنے کا اہل نہیں ہوگا۔

ان اقدامات کا مقصد یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عدالت ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے عمل کو ہر طرح سے شفاف، محفوظ اور قانونی دائرے میں رکھنا چاہتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ویڈیو لنک عدالت نے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے