Jasarat News:
2026-06-02@23:30:17 GMT

پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ: ایک اہم پیش رفت!

اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ دورۂ سعودی عرب کے موقع پر دونوں ملکوں کے قدیم برادرانہ تعلقات میں غیر معمولی گرم جوشی اور اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جس کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے دفاعی تعاون کے فروغ اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے تاریخی اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ بدھ کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ وزیر اعظم آفس کی طرف سے وزیر اعظم کے سعودی عرب کے دورے کے حوالے سے جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ (SMDA) جو دونوں ممالک کے اپنی سلامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے وفود کی موجودگی میں مذاکرات کا باضابطہ سیشن کیا۔ فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور اسٹرٹیجک تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے متعدد موضوعات کا جائزہ لیا مملکت سعودی عرب اور پاکستان کے مابین تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری، بھائی چارے اور اسلامی یکجہتی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اسٹرٹیجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے معاہدے پر دستخط کیے۔ شہباز شریف نے اپنے اور پاکستانی وفد کے پرتپاک استقبال اور فراخدلی سے مہمان نوازی پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عوام کے لیے مسلسل ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم کا شاہی پروٹوکول کے ساتھ گھڑ سواروں نے استقبال کیا جب کہ اس موقع پر وزیر اعظم کو سعودی مسلح افواج کے دستوں نے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا جس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مابین مذاکرات کا سیشن ہوا جس میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر وزراء بھی شریک ہوئے۔ معاہدے کی تکمیل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس سے پہلے وزیر اعظم شہباز شریف کے طیارے کا سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخلے پر سعودی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے شاندار استقبال کیا۔ وزیر اعظم کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ سعودی عرب کی مسلح افواج کے چاق چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ وزیر اعظم کی ریاض آمد پر پورے شہر میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گئے۔ وزیر اعظم کے استقبال پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا سعودی ائر فورس نے شہباز شریف کے جہاز کو ائر اسپیس میں داخل ہوتے ہی اپنی حفاظت میں لیا، سعودی عرب حکومت کی طرف سے برادرانہ محبت اور احترام کا مظاہرہ کیا گیا، عالم اسلام میں یہ مقام اللہ کی مہربانی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ طاقتور منظر گہرے بھائی چارے، باہمی احترام اور بڑھتی ہوئی اسٹرٹیجک شراکت داری کی علامت ہے۔ ادھر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے کے موقع پر جذبہ خیر سگالی کے طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی اہم شاہراہوں، انڈر پاسز، چوراہوں اور انٹرچینجز کو پاکستان اور سعودی عرب کے قومی پرچموں اور برقی قمقموں سے سجا دیا گیا۔ پاکستان کے وزیر اعظم کے دورۂ سعودی عرب کے دوران یہ غیر معمولی جوش و خروش، دو طرفہ خیر سگالی کے جذبات کے اظہار کے لیے دونوں ملکوں میں خصوصی اہتمام اور وزیر اعظم اور ان کے وفد کے لیے نہایت اعلیٰ سطحی پروٹوکول یقینا مشرق وسطیٰ کے بدلے ہوئے حالات خصوصاً قطر کے دارالحکومت دوحا پر اسرائیلی طیاروں کے حملے اور بمباری کے بعد پیدا شدہ صورت حال کے اثرات ہیں۔ پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی ہمیشہ عدم جارحیت اور عدم مداخلت کے اصولوں پر استوار رہی ہے تاہم گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران بین الاقوامی سطح پر پیدا شدہ حالات نے عالمی تناظر میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ مئی میں جارحانہ اقدامات کے جواب میں پاکستان نے جس طرح دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کا اظہار کیا اس سے بین الاقوامی برادری کے پاکستان پر اعتماد میں زبردست اضافہ ہوا۔ اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کے موقع پر بھی پاکستان نے ایران اور امریکا کے مابین کشیدگی کم کرانے میں موثر اور مثبت کردار ادا کیا جس کا امریکا اور ایران دونوں نے برملا اعتراف کیا۔ حال ہی میں اسرائیل کے قطر کے خلاف جارحانہ اقدام کے بعد بھی پاکستان نے نہایت جرأت مندی سے قطر کے ساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کیا اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور عظیم تر اسرائیل کے منصوبہ کی صرف مذمت ہی نہیں کی بلکہ ان کی روک تھام کے لیے اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے دوران  ٹھوس اور قابل عمل تجاویز پیش بھی کی گئیں۔ سربراہ کانفرنس کے موقع پر مسلم اور عرب ممالک کی مشترکہ دفاعی حکمت عملی کی تجویز نے عرب دنیا کے پاکستان پر اعتماد میں زبردست اضافہ کیا ہے اور پاکستان جیسے قابل اعتماد دوست کے قریب تر کر دیا ہے اسی قربت کا ایک مظہر پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والا مشترکہ دفاع کا معاہدہ ہے اس معاہدہ سے پاکستان کی فوجی طاقت، دفاعی صلاحیت اور سعودی عرب کے اقتصادی استحکام کے باہمی تعاون سے خلیج کی سلامتی کا ایک نیا تصور ابھر کر دنیا کے سامنے آیا ہے جس سے خطے کے عرب اور خصوصاً مسلمان ممالک میں تحفظ و سلامتی کا احساس اجاگر ہو گا۔ اس معاہدہ کی تفصیلات اگرچہ تاحال منظر عام پر نہیں آئیں اور مستقبل قریب میں بھی اس کے امکانات کم ہی ہیں تاہم معاہدے میں باہمی مشاورت اور رضا مندی سے کسی تیسرے ملک کو شامل کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے جو اس کا ایک مثبت اور قابل قدر پہلو ہے۔ خطے کے حالات کا تقاضا ہے کہ اس معاہدہ کو دیگر برادر اور ہم خیال عرب اور خلیجی ریاستوں تک بھی وسعت دی جائے کیونکہ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ خطے کی بعض ریاستوں نے اپنے تحفظ اور دفاع و سلامتی کے حوالے سے اپنا مستقبل حجاز مقدس سے وابستہ کر رکھا ہے۔ آخر میں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جانا چاہیے کہ خطے کی ریاستوں کے امریکا اور یورپ کے ممالک سے بھی پہلے سے دفاعی معاہدے موجود ہیں وہ پاکستان سے سعودی عرب جیسے خطے کے بڑے اور اثر رسوخ کے حامل ملک کے دفاعی معاہدے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان اور سعودی عرب کے دونوں ممالک کے کے خلاف جارحیت دفاعی معاہدے دونوں ملکوں مشترکہ دفاع شہباز شریف کے موقع پر کے درمیان کے مابین کسی بھی کے لیے کا ایک

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان