ریکوڈک منصوبے سے طویل المدتی خوشحالی آئے گی: وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریکوڈک کا منصوبہ بلوچستان کے معاشی منظرنامے کو بدلنے اور پاکستان کے عوام کے لیے وسیع تر فوائد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے سے طویل المدتی سماجی و اقتصادی خوشحالی آئے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے ان خیالات کا اظہار اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ریکوڈک منصوبے سے متعلق اہم معاہدوں اور مالیاتی امور پر غور کیا گیا۔ ای سی سی نے مجوزہ ریکو ڈک معاہدوں کی شرائط کی منظوری دی اور ہدایت کی کہ اگر معاہدوں کی حتمی دستاویزات میں کوئی بنیادی تبدیلی سامنے آتی ہے تو اسے دوبارہ ای سی سی کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔ مزید برآں، اجلاس میں وزارت ریلوے کی سمری پر بھی غور کیا گیا جس میں ریکوڈک مائننگ کمپنی کے ساتھ ریلوے ڈیویلپمنٹ ایگریمنٹ اور برج فنانسنگ ایگریمنٹ شامل تھے۔ اس معاہدے کے تحت 390 ملین امریکی ڈالر کی برج فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔ وہ مارچ 2026ء تک منصوبے کی پیش رفت اور عمل درآمد سے متعلق رپورٹ ای سی سی میں پیش کریں۔ اس موقع پر چیئرمین اجلاس، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ای سی سی کی جانب سے دی گئی یہ منظوری حکومت کے اس پختہ عزم کا اظہار ہے کہ ریکوڈک جیسے تاریخی منصوبے کو آگے بڑھایا جائے۔ یورپی یونین کے سفیر کی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، بالخصوص اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور پاکستان و یورپی یونین کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ وزیر خزانہ نے سفیر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ معیشت بتدریج بحالی کی طرف گامزن ہے اور پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔ وزیر خزانہ نے ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں کی اصلاحات، پبلک فنانس اور حکومتی اداروں کے ڈھانچے میں کمی سمیت وسیع البنیاد معاشی اصلاحات پر روشنی ڈالی اور امید ظاہر کی کہ نجکاری کا عمل آئندہ دنوں میں مزید تیز ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیراعظم خود اس ایجنڈے کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس موقع پر سفیر ریموندس کارویلس نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان بزنس فورم آئندہ سال کی پہلی ششماہی میں فعال کردیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔