بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مستحقین کیلئے محفوظ، شفاف اورآسان ادائیگی کے نظام کو یقینی بنانے کیلئے پُرعزم ہے، سینیٹر روبینہ خالد
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اپنے مستحقین کیلئے محفوظ، شفاف اور آسان ادائیگی کے نظام کو یقینی بنانے کیلئے پُرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صدرِ پاکستان کی ہدایات اور وزیر اعظم پاکستان کے وژن کے مطابق بی آئی ایس پی جدید اور شفاف ادائیگی کے نظام کو اپنانے کے لئے پرعزم ہے جو مستحقین کو بروقت، سہل اور باعزت سہولت فراہم کرے گا۔ اجلاس میں مستحقین کیلئے نقد رقوم کی تقسیم کے جدید نظام کی تیاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس اقدام کا مقصد ملک بھر کے لاکھوں مستحقین کیلئے مالی امداد کی تقسیم کو محفوظ، شفاف اور آسان بنانا ہے۔اجلاس میں چیف کمرشل آفیسر ون لنک محمد بشیر خان، کارانداز ٹیم، ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی اور تمام ڈائریکٹر جنرلز نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ٹیکنالوجی پر مبنی ایک ایسے ادائیگی کے نظام پر غور کیا گیا جو کم سے کم انسانی مداخلت کے ساتھ مستحقین کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں مالی امداد تک رسائی میں انتخاب کی آزادی فراہم کرے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ادائیگی کے نظام مستحقین کیلئے
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔