سندھ ہائیکورٹ ،پارکنگ پر سیل دکانیں کھولنے، دکانداروں کو گاڑیاں سڑک پر نہ کھڑی کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے پارکنگ کے مسئلے پر سیل دکانیں کھولنے کا حکم دیتے ہوئے دکانداروں کو گاڑیاں سڑک پر کھڑی نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے دکانیں سیل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو نے کی جس دوران متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران وکیل کنٹونمنٹ بورڈ نے کہا ہے کہ دکانیں اس لیے سیل کیں کیونکہ آدھی سڑک پر گاڑیاں کھڑی تھیں، اس پر جسٹس اقبال نے کہا کہ یہ چاہے کسی بھی علاقے میں ہوں لیکن سڑک روکنے کا حق کسی کو نہیں ہے، درخواست گزار کاریں سڑکوں کے بجائے دکان کے اندر کھڑی کریں گے۔وکیل درخواست گزار نے کہا ہے کہ ہم کاریں قطار میں کھڑی کرتے ہیں، لوگوں کو پریشانی نہیں ہوتی، اس پر عدالت نے کہا کہ ہم مریخ سے نہیں آئے، یہیں رہتے ہیں اور روز سڑکوں پر حال دیکھتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے مشروط طور پر دکانیں کھولنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کو روزگار کا حق ہے اسی لیے دکانیں کھولنے کی اجازت دے رہے ہیں، عدالت نے کہا کہ آئندہ حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو آپ کو مشکلات ہوں گی، کوشش کریں گاڑیاں دکان کے اندر کھڑی کر کے کام کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دکانیں کھولنے نے کہا
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :