نئے گیس کنکشنزکی 30 لاکھ پرانی درخواستیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250920-01-4
اسلام آباد (صباح نیوز) پیٹرولیم ڈویژن نے سوئی گیس کے نئے کنکشنز کیلئے پالیسی تبدیل کر دی، 30 لاکھ سے زائد پرانی درخواستیں منسوخ جبکہ درآمدی ایل این جی کنکشنز کے لیے نیا فریم ورک جاری کردیا گیاہے ۔پیٹرولیم ڈویژن نے سوئی گیس کنکشنز کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر لیا ہے، درآمدی ایل این جی کنکشنز کے لیے نیا فریم ورک سوئی کمپنیوں کو بھیج دیا گیا۔ نئی درخواستوں کے بعد نیا میرٹ آرڈر جاری ہوگا۔ ڈیمانڈ نوٹس اور ارجنٹ فیس جمع کرانے والے صارفین کو ایل این جی کنکشنز کے لیے اضافی فیس دینا ہوگی۔ذرائع کے مطابق درآمدی گیس کا ٹیرف مقامی گیس کے مقابلے میں 70فیصد زیادہ ہوگا۔ اس وقت ڈھائی لاکھ صارفین نے ڈیمانڈ نوٹس اور چار ہزار نے ارجنٹ فیس جمع کرا رکھی ہے۔ کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایک سال میں 50 فیصد صارفین کو کنکشن دیا جائے۔ ارجنٹ فیس ادا کرنے والے صارفین کو 3ماہ میں کنکشن فراہم ہوگا۔ ایک سال سے منقطع گھریلو صارفین کو بھی درآمدی گیس کنکشن دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صارفین کو کنکشنز کے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔