ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اسرائیل کو 6 ارب 40 کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مجوزہ معاہدے میں حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور فوجی گاڑیوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں ان ہتھیاروں کی ممکنہ فروخت کی خبر دی، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس پر کسی تبصرے سے گریز کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس منعقد ہونے والا ہے اور اسی دوران سلامتی کونسل غزہ کی صورتحال پر خصوصی اجلاس بلانے جا رہی ہے۔
مجوزہ دفاعی پیکیج میں 3 ارب 80 کروڑ ڈالر مالیت کے 30 اے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹرز، ایک ارب 90 کروڑ ڈالر کی لاگت سے 3 ہزار 250 پیادہ فوجی جنگی گاڑیاں، اور مزید 75 کروڑ ڈالر مالیت کے پرزہ جات شامل ہیں جو بکتر بند گاڑیوں اور بجلی کی فراہمی کے نظام میں استعمال ہوں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسرائیلی فوج کے لیے یہ بھرپور حمایت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی ڈیموکریٹس کی بڑی تعداد اسرائیل کے غزہ پر حملوں پر کھلے عام تشویش ظاہر کر رہی ہے۔ جمعرات کو امریکی سینیٹرز کے ایک گروپ نے پہلی مرتبہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی قرارداد سینیٹ میں پیش کی، جبکہ حالیہ ہفتوں میں نصف سے زیادہ ڈیموکریٹ سینیٹرز اسرائیل کو مزید اسلحہ بیچنے کی مخالفت میں ووٹ دے چکے ہیں۔
Post Views: 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کروڑ ڈالر
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔