پاکستان میں ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 50 لاکھ کے قریب پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
غیر ملکی میڈیا کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے عام انتخابات سے قبل ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق پاکستان میں ووٹرز کی مجموعی تعداد اب تقریباً 13 کروڑ 49 لاکھ 94 ہزار 984 ہو چکی ہے — جو ملک کی جمہوری تاریخ میں ووٹروں کی شرکت میں ایک نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق:
پنجاب: سب سے آگے ہے، جہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد7 کروڑ 68 لاکھ 12 ہزار 589 ہے۔
سندھ: دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 2 کروڑ 82 لاکھ 87 ہزار 201 افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
خیبرپختونخوا:میں ووٹرز کی تعداد2 کروڑ 23 لاکھ 321 ہے۔
بلوچستان: میں56 لاکھ 38 ہزار 84 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔
جبکہ اسلام آباد میں یہ تعداد12 لاکھ 11 ہزار 879 ہے۔
ای سی پی کی جانب سے جاری کیے گئے یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں اگلے عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعداد جمہوری عمل میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور شراکت کو ظاہر کرتے ہیں، جو آئندہ انتخابی ماحول پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔