علامہ احمد اقبال رضوی کا سیلاب سے متاثرہ جنوبی پنجاب کے علاقوں کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
اسلام ٹائمز: وائس چیئرمین ایم ڈبلیو ایم کا کہنا تھا کہ جس طرح سیلاب کے باعث لوگ متاثر ہوئے ہیں، حکومت اس حوالے سے فعال نظر نہیں آرہی۔ یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے، اس میں ایم ڈبلیو ایم اور دیگر تنظیمیں میدان عمل میں ہیں، تاہم حکومت کی کوششیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ اپنے اس دورے کے موقع پر وہ انتہائی دشوار گزار علاقوں سے گزرتے ہوئے سلاب متاثرین تک پہنچے۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید عدیل عباس
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں جلال پور پیر والا ضلع ملتان اور علی پور پہنچے۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرین سیلاب سے ملاقاتیں، ان کی احوال پرسی کی اور امدادی سامان بھی تقسیم کیا۔ دورے کے اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء ارشاد حسین اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے المجلس ویلفیئر آرگنائزیشن کی سیلاب زدگان کے لیے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور فلاحی کاموں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح سیلاب کے باعث لوگ متاثر ہوئے ہیں، حکومت اس حوالے سے فعال نظر نہیں آرہی۔ یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے، اس میں ایم ڈبلیو ایم اور دیگر تنظیمیں میدان عمل میں ہیں، تاہم حکومت کی کوششیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ اپنے اس دورے کے موقع پر وہ انتہائی دشوار گزار علاقوں سے گزرتے ہوئے سیلاب متاثرین تک پہنچے، اگر کہیں پانی کی وجہ سے راستہ مشکل تھا تو وہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر رات کی تاریکی میں سیلاب سے گھرے لوگوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ علامہ سید احمد اقبال رضوی کے اس دورے کی مزید تفصیلات اس ویڈیو رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیں۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم ڈبلیو ایم سیلاب سے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔