پنجاب مودی کے ہندوتوا کو مسترد کرنے کی قیمت چکا رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 ستمبر 2025ء) سیلاب کی لپیٹ میں پنجاب کے گاؤں جزیروں سے کم دکھائی نہیں دی رہے۔ ایسی صورتحال میں وفاقی حکومت نے سیلاب سے پیدا شدہ مسائل کی طرف سے اپنا مُنہ پھیر لیا۔ تقریباً ایک ماہ تک حکومت کی طرف سے خوراک، ادویات اور کشتیوں کے زریعے بنیادی امدد بھی فراہَم نہیں کی گئی۔ صوبے کو خود اپنے وسائل کو بروئے کار لانے اور امدادی کاموں کے لیے انتظامات کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا۔
پنجاب بی جے پی کی طرف سے حمایت یافتہ ہندوتوا کی شدید مخالفت کرتا آیا ہے۔ مودی کی پنجاب سے نفرت کوئی نئی بات نہیں۔ پنجابیوں کو لگتا ہے کہ انہیں مودی کے کسان قانون اور سیاسی نظریے کو مسترد کرنے کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔
امریک سنگھ کے والد نے بیٹے کا نام اسی اُمید پر رکھا تھا کہ ایک دن وہ امریکی ویزا حاصل کرے گا اور امریکہ جا کر بس جائے گا۔
(جاری ہے)
پھر امریک اور امریکہ ایک ہو جائیں گے۔پنجاب کے بیشتر گھروں کی طرح یہاں بھی خواب وہی تھا، پردیس جانا، دولت کمانا اور خاندان کو خوشحال بنانا۔ لیکن جب تین سال کی لگاتار کوششوں کے بعد امریک کے ویزا کے امکانات ختم ہو گئے تو باپ سکھویر سنگھ نے فیصلہ کیا کہ بیٹے کا مستقبل اب گاؤں کی زمین اور کھیتوں میں تلاش کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے قرض لے کر ڈیری اور پولٹری فارم کھولا۔
فارم ابھی چند ماہ پہلے ہی قائم ہوا تھا۔ اُمید یہ تھی کہ دو تین فصلوں کے بعد قرض اتر جائے گا اور گھر کے حالات سنبھل جائیں گے۔ مگر 16 اگست کو آنے والے سیلاب نے یہ خواب بھی بہا دیا۔ پانی ان کے کھیتوں میں داخل ہوا اور چند ہی دنوں میں فارم زمین بوس ہو گیا۔ مرغیاں، ڈیری کے ڈھانچے اور چارہ سب کچھ برباد ہو گیا۔ کچھ مویشی ڈوب گئے اور جو بچ گئے وہ آج گوردوارہ ڈیرہ بابا نانک کے احاطے میں بندھے ہیں۔
امریک ایک درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے، ''آپ کو وہ درخت دکھ رہا ہے؟ وہاں ہمارا کھیت اور فارم تھا۔ اب پانی اترنے تک ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘ وہ خود لائف جیکٹ پہن کر کشتی میں بیٹھ جاتا ہے جو امدادی سامان دوسرے دیہاتوں میں لے جا رہی ہے۔ اس کے والد کے لبوں پر صرف ایک جملہ ہے، ''تیرا بھنا مٹھا لگے‘‘ (جو کچھ بھی ہوا، واہگورو کی مرضی خوشی سے قبول ہے)۔
سیلاب کی تباہی کی وسعتپنجاب کے تمام 23 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔ 1.
موگا کی کسان عورت روپ کور آنسو پونچھتے ہوئے کہتی ہے، ''رات کو پانی بڑھنا شروع ہوا، صبح تک ہمارے مویشی ختم ہو گئے۔
یہ کپڑے جو آپ ہمارے بدن پر دیکھ رہے ہیں، ہم صرف یہی بچا سکے۔‘‘مویشیوں کا نقصان حیران کن ہے۔ سینکڑوں جانور سرحد پار پاکستان میں بہہ گئے ۔ پنجاب کے لیے جہاں دودھ اور ڈیری کسانی کا اہم ستون ہے، یہ ایک ناقابلِ تلافی صدمہ ہے۔
مرکز کی بے رخی اور سیاسی پس منظرپنجاب کے باسیوں کو یقین ہے کہ دہلی کی بے رخی کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام ہے۔
بی جے پی کی ہندوتوا سیاست کو یہاں کبھی جگہ نہ مل سکی۔ یہ وہ صوبہ ہے جہاں غیر سکھ وزیر اعلیٰ کا خواب آج تک پورا نہ ہو سکا۔ اکالی دل، کانگریس اور اب عام آدمی پارٹی نے باری باری اقتدار سنبھالا مگر بی جے پی حاشیے پر ہی رہی۔کسانوں کے احتجاج نے تعلقات مزید کشیدہ کر دیے۔ 2020-21 میں پنجاب کے کسانوں نے ایک سال تک دہلی کو گھیرے رکھا۔
بالآخر مودی کو قوانین واپس لینے پڑے۔ یہ پنجاب کی نافرمانی کا سب سے بڑا اعلان تھا۔ تب سے مرکز اور پنجاب کے تعلقات میں دراڑ اور گہری ہو گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب سیلاب آیا تو مرکز تین ہفتے خاموش رہا۔ وزیر اعظم نے پہلے افغانستان کے زلزلے پر تعزیت کی مگر اپنے ملک کے پنجاب کا ذکر تک نہ کیا۔ سکھ مذہبی رہنماؤں کے دباؤ کے بعد ہی مودی پنجاب آئے اور 1300 کروڑ روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا۔
مگر یہ رقم مرکزی خزانے سے نہیں بلکہ صوبے کے ڈیزاسٹر فنڈ سے نکالی گئی۔ پنجاب کی سیاست پر اثراتوزیر اعلیٰ بھگونت مان بیماری کا عذر پیش کر کے منظر سے غائب رہے۔ ان کی حکومت پر دہلی سے مذاکرات میں ناکامی کا الزام ہے۔ اکالی دل اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔بی جے پی نے خالصتان کارڈ کھیلنے کی کوشش کی مگر سماجی ماہر ہرویندر سنگھ بھٹی کے مطابق یہ محض ایک پرانا حربہ ہے۔
وہ کہتے ہیں، ''یہاں کوئی علیحدگی پسند تحریک نہیں۔ ہر بار جب پنجاب اپنے حقوق مانگتا ہے تو اس پر علیحدگی پسند کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔‘‘پنجاب بھارت کی غذائی سلامتی کی ضمانت ہے۔ ملک کی ایک تہائی گندم اور چاول یہیں سے خریدے جاتے ہیں۔ کھیتوں کے ڈوبنے سے اب فوڈ سپلائی چین پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پنجاب کو فوری سہارا نہ ملا تو یہ بحران پورے ملک میں قحط کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
عوام کا حوصلہ اور کمیونٹی کی مددمرکز کی بے حسی کے باوجود پنجابی عوام نے کمر کس لی۔ مقامی لوگوں نے اپنی کشتیاں بنائیں۔ گوردواروں نے لنگر کھول دیے۔ ٹریکٹروں پر امدادی سامان بھر کر سیلابی علاقوں میں پہنچایا گیا۔
امریکہ اور کینیڈا میں مقیم پنجابیوں نے ریڈیو مہم چلا کر کروڑوں ڈالر بھیجے۔ پنجابی فلم انڈسٹری کے بڑے نام خود امداد تقسیم کرنے پہنچ گئے۔
پروفیسر گرمیت سنگھ کہتے ہیں، ''یہ حوصلہ سکھ گروؤں کی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ سکھ مذہب مشکلات کے سامنے جھکنے کا نہیں بلکہ برادری کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔‘‘ نتیجہ: پنجاب اور دہلی کے بیچ بڑھتی خلیجپنجاب پھر سے بکھرے خواب سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن مرکز کا رویہ اس غصے کو بڑھا رہا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں یہ یقین اور گہرا ہو گیا ہے کہ دہلی کو پنجاب کی یاد صرف اس وقت آتی ہے جب سرحد پر جنگ چھڑتی ہے، نہ کہ جب شہری اپنے گھروں میں ڈوب رہے ہوں۔
تجزیہ کار راجندر برار کے مطابق، ''جب پاکستان کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو پنجابیوں کو قربانی کے لیے بلایا جاتا ہے۔ لیکن جب پنجاب پر آفت آتی ہے تو اسے اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو پنجاب دہلی کے حکم پر راضی نہ ہونے کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔
ادارت: کشور مصطفیٰ
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پنجاب کے بی جے پی جاتا ہے کی طرف کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔