UrduPoint:
2026-06-03@04:40:52 GMT

پنجاب مودی کے ہندوتوا کو مسترد کرنے کی قیمت چکا رہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

پنجاب مودی کے ہندوتوا کو مسترد کرنے کی قیمت چکا رہا ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 ستمبر 2025ء) سیلاب کی لپیٹ میں پنجاب کے گاؤں جزیروں سے کم دکھائی نہیں دی رہے۔ ایسی صورتحال میں وفاقی حکومت نے سیلاب سے پیدا شدہ مسائل کی طرف سے اپنا مُنہ پھیر لیا۔ تقریباً ایک ماہ تک حکومت کی طرف سے خوراک، ادویات اور کشتیوں کے زریعے بنیادی امدد بھی فراہَم نہیں کی گئی۔ صوبے کو خود اپنے وسائل کو بروئے کار لانے اور امدادی کاموں کے لیے انتظامات کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا۔

پنجاب بی جے پی کی طرف سے حمایت یافتہ ہندوتوا کی شدید مخالفت کرتا آیا ہے۔ مودی کی پنجاب سے نفرت کوئی نئی بات نہیں۔ پنجابیوں کو لگتا ہے کہ انہیں مودی کے کسان قانون اور سیاسی نظریے کو مسترد کرنے کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

امریک سنگھ کے والد نے بیٹے کا نام اسی اُمید پر رکھا تھا کہ ایک دن وہ امریکی ویزا حاصل کرے گا اور امریکہ جا کر بس جائے گا۔

(جاری ہے)

پھر امریک اور امریکہ ایک ہو جائیں گے۔

پنجاب کے بیشتر گھروں کی طرح یہاں بھی خواب وہی تھا، پردیس جانا، دولت کمانا اور خاندان کو خوشحال بنانا۔ لیکن جب تین سال کی لگاتار کوششوں کے بعد امریک کے ویزا کے امکانات ختم ہو گئے تو باپ سکھویر سنگھ نے فیصلہ کیا کہ بیٹے کا مستقبل اب گاؤں کی زمین اور کھیتوں میں تلاش کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے قرض لے کر ڈیری اور پولٹری فارم کھولا۔

فارم ابھی چند ماہ پہلے ہی قائم ہوا تھا۔ اُمید یہ تھی کہ دو تین فصلوں کے بعد قرض اتر جائے گا اور گھر کے حالات سنبھل جائیں گے۔ مگر 16 اگست کو آنے والے سیلاب نے یہ خواب بھی بہا دیا۔ پانی ان کے کھیتوں میں داخل ہوا اور چند ہی دنوں میں فارم زمین بوس ہو گیا۔ مرغیاں، ڈیری کے ڈھانچے اور چارہ سب کچھ برباد ہو گیا۔ کچھ مویشی ڈوب گئے اور جو بچ گئے وہ آج گوردوارہ ڈیرہ بابا نانک کے احاطے میں بندھے ہیں۔

امریک ایک درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے، ''آپ کو وہ درخت دکھ رہا ہے؟ وہاں ہمارا کھیت اور فارم تھا۔ اب پانی اترنے تک ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘ وہ خود لائف جیکٹ پہن کر کشتی میں بیٹھ جاتا ہے جو امدادی سامان دوسرے دیہاتوں میں لے جا رہی ہے۔ اس کے والد کے لبوں پر صرف ایک جملہ ہے، ''تیرا بھنا مٹھا لگے‘‘ (جو کچھ بھی ہوا، واہگورو کی مرضی خوشی سے قبول ہے)۔

سیلاب کی تباہی کی وسعت

پنجاب کے تمام 23 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔ 1.

76 لاکھ ہیکٹر پر پھیلی دھان اور مکئی کی فصل جو کٹائی کے قریب تھی، بہہ گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2050 دیہاتوں کے تقریباً 20 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ سینکڑوں دیہات کے لوگ گھروں کی چھتوں یا گوردواروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

موگا کی کسان عورت روپ کور آنسو پونچھتے ہوئے کہتی ہے، ''رات کو پانی بڑھنا شروع ہوا، صبح تک ہمارے مویشی ختم ہو گئے۔

یہ کپڑے جو آپ ہمارے بدن پر دیکھ رہے ہیں، ہم صرف یہی بچا سکے۔‘‘

مویشیوں کا نقصان حیران کن ہے۔ سینکڑوں جانور سرحد پار پاکستان میں بہہ گئے ۔ پنجاب کے لیے جہاں دودھ اور ڈیری کسانی کا اہم ستون ہے، یہ ایک ناقابلِ تلافی صدمہ ہے۔

مرکز کی بے رخی اور سیاسی پس منظر

پنجاب کے باسیوں کو یقین ہے کہ دہلی کی بے رخی کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام ہے۔

بی جے پی کی ہندوتوا سیاست کو یہاں کبھی جگہ نہ مل سکی۔ یہ وہ صوبہ ہے جہاں غیر سکھ وزیر اعلیٰ کا خواب آج تک پورا نہ ہو سکا۔ اکالی دل، کانگریس اور اب عام آدمی پارٹی نے باری باری اقتدار سنبھالا مگر بی جے پی حاشیے پر ہی رہی۔

کسانوں کے احتجاج نے تعلقات مزید کشیدہ کر دیے۔ 2020-21 میں پنجاب کے کسانوں نے ایک سال تک دہلی کو گھیرے رکھا۔

بالآخر مودی کو قوانین واپس لینے پڑے۔ یہ پنجاب کی نافرمانی کا سب سے بڑا اعلان تھا۔ تب سے مرکز اور پنجاب کے تعلقات میں دراڑ اور گہری ہو گئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب سیلاب آیا تو مرکز تین ہفتے خاموش رہا۔ وزیر اعظم نے پہلے افغانستان کے زلزلے پر تعزیت کی مگر اپنے ملک کے پنجاب کا ذکر تک نہ کیا۔ سکھ مذہبی رہنماؤں کے دباؤ کے بعد ہی مودی پنجاب آئے اور 1300 کروڑ روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا۔

مگر یہ رقم مرکزی خزانے سے نہیں بلکہ صوبے کے ڈیزاسٹر فنڈ سے نکالی گئی۔ پنجاب کی سیاست پر اثرات

وزیر اعلیٰ بھگونت مان بیماری کا عذر پیش کر کے منظر سے غائب رہے۔ ان کی حکومت پر دہلی سے مذاکرات میں ناکامی کا الزام ہے۔ اکالی دل اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔بی جے پی نے خالصتان کارڈ کھیلنے کی کوشش کی مگر سماجی ماہر ہرویندر سنگھ بھٹی کے مطابق یہ محض ایک پرانا حربہ ہے۔

وہ کہتے ہیں، ''یہاں کوئی علیحدگی پسند تحریک نہیں۔ ہر بار جب پنجاب اپنے حقوق مانگتا ہے تو اس پر علیحدگی پسند کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔‘‘

پنجاب بھارت کی غذائی سلامتی کی ضمانت ہے۔ ملک کی ایک تہائی گندم اور چاول یہیں سے خریدے جاتے ہیں۔ کھیتوں کے ڈوبنے سے اب فوڈ سپلائی چین پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پنجاب کو فوری سہارا نہ ملا تو یہ بحران پورے ملک میں قحط کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

عوام کا حوصلہ اور کمیونٹی کی مدد

مرکز کی بے حسی کے باوجود پنجابی عوام نے کمر کس لی۔ مقامی لوگوں نے اپنی کشتیاں بنائیں۔ گوردواروں نے لنگر کھول دیے۔ ٹریکٹروں پر امدادی سامان بھر کر سیلابی علاقوں میں پہنچایا گیا۔

امریکہ اور کینیڈا میں مقیم پنجابیوں نے ریڈیو مہم چلا کر کروڑوں ڈالر بھیجے۔ پنجابی فلم انڈسٹری کے بڑے نام خود امداد تقسیم کرنے پہنچ گئے۔

پروفیسر گرمیت سنگھ کہتے ہیں، ''یہ حوصلہ سکھ گروؤں کی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ سکھ مذہب مشکلات کے سامنے جھکنے کا نہیں بلکہ برادری کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔‘‘ نتیجہ: پنجاب اور دہلی کے بیچ بڑھتی خلیج

پنجاب پھر سے بکھرے خواب سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن مرکز کا رویہ اس غصے کو بڑھا رہا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں یہ یقین اور گہرا ہو گیا ہے کہ دہلی کو پنجاب کی یاد صرف اس وقت آتی ہے جب سرحد پر جنگ چھڑتی ہے، نہ کہ جب شہری اپنے گھروں میں ڈوب رہے ہوں۔

تجزیہ کار راجندر برار کے مطابق، ''جب پاکستان کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو پنجابیوں کو قربانی کے لیے بلایا جاتا ہے۔ لیکن جب پنجاب پر آفت آتی ہے تو اسے اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو پنجاب دہلی کے حکم پر راضی نہ ہونے کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پنجاب کے بی جے پی جاتا ہے کی طرف کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی