کراچی:

بن قاسم پولیس نے 15سالہ لڑکی کے مبینہ اغوا پر گرفتار ملزم اور اس کے دیگر ساتھیوں کے خلاف مغویہ کی والدہ کی مدعیت میں درج کرلیا۔

مغویہ کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ رہتی ہیں اور گھریلو ملازمہ ہیں، 19 ستمبر کو ان کی بیٹیاں 15 سالہ مائرہ اور 12 سالہ صبیحہ اسکول گئیں لیکن چھوٹی بیٹی نے اسکول سے واپسی پر بتایا کہ بڑی بہن کو ساڑھے 11بجے کے قریب 4 نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ میرے والد نے دیگر شہریوں کے ساتھ مل کر ملزم ساجد پکڑا، جس کے بعد عوام نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جس پر ساجد نے بتایا کہ عبدالرحمان نامی شخص اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ بچی کو اغوا کر کے فرار ہوا ہے۔

مدعیہ نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم ساجد علی اور اس کے ساتھی عبدالرحمان اور دیگر ساتھیوں نے ان بیٹی کو بہلا پھسلا کر اغوا کیا ہے لہٰذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

پولیس نے مقدمہ نمبر 390 سال 2025 بجرم دفعہ 365 بی کے تحت نامزد و دیگر نامعلوم کے خلاف درج کر کے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا۔

ایس ایچ او بن قاسم فیصل رفیق نے بتایا کہ مغویہ کے حوالے سے کچھ اہم معلومات ملی ہیں جس پر پولیس کام کر رہی ہے اور انہیں جلد بازیاب کرالیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بتایا کہ

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق