انسان کے روپ میں وحشی درندہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250921-03-3
شجاع صغیر
اے ابن آدم آج سے چند سال پہلے کی بات ہے کہ پنجاب کے شہر قصور میں ایک معصوم لڑکی زینب کے ساتھ زیادتی ہوئی پھر اس پھول کا قتل کردیا جاتا ہے، اس وقت بھی میں نے ایک کالم تحریر کیا تھا جس کا عنوان تھا ’’قصور کی بے قصور زینب‘‘۔ اس وقت بھی میں نے حکمرانوں سے اپیل کی تھی کہ اس فعل کے مرتکب کو سرے عام پھانسی دی جائے تا کہ وہ ایک نشان عبرت بن جائے مگر ایسا نہیں ہوا اور یہ سلسلہ چلتا رہا پھر اچانک اخبار کی ایک خبر نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ قیوم آباد کے علاقے میں بچیوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا۔ درندہ صفت ملزم کے موبائل فون اور یو ایس بی ڈرائیو سے معصوم بچیوں کی 200 سے زائد ویڈیوز ملی ہیں۔ ڈیفنس تھانے کی حدود قیوم آباد سی ایریا گلی نمبر 18 میں شربت کی ریڑھی لگانے والا بھیڑیا صفت ملزم عوام کے ہتھے چڑھ گیا۔ ملزم شیر احمد کو علاقہ مکینوں نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ڈیفنس پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس کے مطابق ملزم سے تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزم شبیر احمد کئی کم عمر بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا چکا ہے اور وہ زیادتی کرتے ہوئے معصوم بچیوں کی ویڈیوز بھی بناتا تھا۔ ایس ایس پی سائوتھ نے بتایا کہ دوران تفتیش ملزم کے موبائل فون اور یو ایس بی سے 200 سے زائد معصوم بچیوں کی ویڈیوز ملی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور وہ سال 2016ء میں کراچی آیا اور قیوم آباد میں کرائے کے کمرے میں رہتا ہے۔ ملزم نے 7 سے 13 سال کی عمر کی بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ جنسی درندگی کا نشانہ بننے والی بچیاں اس علاقے کی ہیں اور کئی بچیوں کو وہ متعدد بار زیادتی کا نشانہ بنا چکا ہے۔ ملزم پیسوں اور چیز کا لالچ دے کر بچیوں کو اپنے کمرے میں لے جاتا تھا، کئی بچیاں پیسوں کی لالچ میں اس کے پاس آتی تھیں اور پھر وہ انہیں مزید پیسوں کا لالچ دے کر ان کی بہنوں اور کزنز کو بھی بلاتا تھا۔ ملزم نے دو بہنوں سمیت کئی کم عمر بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ کئی ویڈیوز میں ملزم خود بھی نظر آرہا ہے۔ ملزم نے بتایا کہ اس کا ایک دوست آصف جس کا انتقال ہوچکا ہے اس نے ملزم کو اس لت میں لگایا۔ پولیس نے دو بہنوں سمیت 5 بچیوں کے ساتھ زیادتی کے چار مقدمات اب تک درج کرلیے ہیں، بچیوں کی عمریں 7 سے 13 برس ہے۔ متاثرہ بچیوں کا میڈیکل چیک اپ بھی کروایا جارہا ہے۔ موبائل اور یو ایس بی سے ملنے والی ویڈیوز کے ذریعے دیگر بچیوں کے حوالے سے معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ ملزم کی یو ایس بی ایک بچی کے ہاتھ لگی جسے وہ مقامی موبائل کی دکان پر فروخت کے لیے آئی جس کے بعد یہ درندہ صفت ملزم بے نقاب ہوگیا۔ ملزم کے قبضے سے بچیوں کے اسکول کے کپڑے اور اسکول کارڈ بھی برآمد ہوئے۔ ملزم شیر تنولی 2016 میں کراچی آیا۔ ملزم کی ہوس کا نشانہ بننے والی سب سے کم عمر بچی 7 سال کی ہے جبکہ بقول ملزم کے اس نے 8 سال سے لے کر 14 سال تک کی لڑکیوں کو پامال کیا۔ گرفتاری تک 100 سے زائد بچیوں کے ساتھ زیادتی کی، ملزم شبیر تنولی نے حوانیت، درندگی اور سفاکیت کی تمام حدوں کو پار کردیا۔ ویڈیوز کے حوالے سے ملزم نے بتایا کہ یہ ویڈیوز اس نے کبھی کسی کو نہیں دیں بلکہ وہ اپنی تسکین کے لیے یہ ویڈیوز بناتا تھا۔ ملزم ساتویں پاس ہے، 2016ء سے 2025ء تک 100 سے زیادہ بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے اور ان کی زندگی تباہ کرنے والا یہ وحشی درندہ کہتا ہے کہ اس کو اپنے اس فعل پر شرم نہیں آتی تھی۔ مجھے جو سزا ملے گی قبول کروں گا۔
اے ابن آدم خدا کے واسطے اپنی بچیوں کی تربیت کریں یہ ان کی مائوں کا کام ہے کہ انہیں اکیلے نہ نکلنے دیں، ہمارے معاشرے میں یہ لعنت بڑھتی جارہی ہے، کچھ والدین تو عزت کی وجہ سے اس طرح کے واقعات کی شکایت تک نہیں کرتے۔ میری اسکول کے استادوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ بھی بچیوں کی تربیت کریں اگر کسی بچی کے ساتھ ایسا کوئی شرمناک واقعہ ہو تو وہ اس کے بارے میں اپنے گھر والوں کو بتائے، میں پھر سچ لکھوں گا تو حکمرانوں کو اور انصاف فراہم کرنے والوں کو برا لگ جاتا ہے، ہماری عدالتیں اگر بروقت اس طرح کے مقدمات کا فیصلہ سنادیں اور سزا کم سے کم پھانسی ہو تو پھر جا کر اس طرح کے واقعات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے مگر ہمارے حکمرانوں کو آزاد عدلیہ بھی نہیں پسند۔ اپنی مرضی کے جج لے کر آتے ہیں، من پسند فیصلے کرواتے ہیں۔ آخر کب تک یہ نظام چلے گا؟ اس فرسودہ اور جاگیردارانہ نظام کو بدلنا ہوگا نہیں تو آنے والی نسلیں بھی تباہ و برباد ہوجائیں گی۔ میری آرمی چیف اور چیف جسٹس صاحب سے درخواست ہے کہ ملزم شبیر تنولی کا کیس کھلی عدالت میں چلایا جائے اور ایسے وحشی درندے نما انسان کو سرے عام پھانسی دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ساتھ زیادتی نے بتایا کہ یو ایس بی بچیوں کو بچیوں کی بچیوں کے کا نشانہ نے والی کہ ملزم ملزم کے
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔