سلمان خان چین مخالف فلم کی شوٹنگ کے دوران زخمی
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
بولی وڈ کے دبنگ اسٹار سلمان خان اپنی آنے والی ایکشن ڈرامہ فلم ”بیٹل آف گلوان“ کی شوٹنگ کے دوران زخمی ہوگئے۔ فلم کا پہلا مرحلہ لداخ کے برفیلے علاقوں میں فلمایا گیا، جس کے بعد اداکار ممبئی واپس پہنچ گئے ہیں جہاں وہ آئندہ شیڈول کی تیاری کریں گے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق شوٹنگ کا پہلا شیڈول تقریباً 45 دن پر محیط تھا، جس دوران فلم کی ٹیم نے حقیقی مقامات پر مناظر عکس بند کیے۔ جبکہ سلمان خان خود 15 دن سیٹ پر موجود رہے۔ اس دوران درجہ حرارت منفی 10 ڈگری تک پہنچ جاتا تھا اور آکسیجن کی کمی کے باعث عملے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
لداخ شوٹنگ کے ذرائع کے مطابق سلمان خان کو شوٹنگ کے دوران معمولی چوٹیں بھی آئیں، لیکن انہوں نے سخت موسمی حالات کے باوجود کام جاری رکھا۔ شوٹنگ مکمل کرنے کے بعد وہ مختصر آرام کر رہے ہیں تاکہ ممبئی شوٹنگ کے اگلے مرحلے میں بھرپور توانائی کے ساتھ شامل ہو سکیں۔
رپورٹ کے مطابق فلم کا دوسرا شیڈول اگلے ہفتے ممبئی میں شروع ہوگا، جو کہ فلم کی کہانی کا سب سے اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اس مرحلے میں جہاں ایکشن مناظر شامل ہوں گے، وہیں ہدایتکار اپوروا لکھیا کئی گہرے جذباتی اور ڈرامائی مناظر بھی فلم بند کریں گے۔
اداکار نے لداخ کا شیڈول مکمل کرنے کے بعد ممبئی واپسی پر اپنی ٹی وی مصروفیات بھی دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ انہیں آج بگ باس 19 کے ویک اینڈ کا وار ایپی سوڈ میں دیکھا جائے گا۔
ہدایتکار اپوروا لکھیا کی ڈائریکشن میں بننے والی یہ فلم 2020 میں بھارت اور چین کے درمیان گلوان وادی میں ہونے والی جھڑپ پر مبنی ہے۔ فلم کی ریلیز کی تاریخ تاحال سامنے نہیں آئی، تاہم قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پروڈکشن ٹیم جلد ہی اس حوالے سے باضابطہ اعلان کرے گی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔