مشہور بھارتی اداکار فلم کی شوٹنگ کے دوران انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
جنوبی بھارتی اداکار اور کامیڈین روبو شنکر 46 سال کی عمر میں شوٹنگ کے دوران سیٹ پر گرنے کے بعد انتقال کر گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 46 سالہ تامل اداکار اور کامیڈین روبو شنکر ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران برین ہیمرج کے باعث سیٹ پر گرگئے جس کے بعد انہیں فوری طور پر چنئی، تامل ناڈو کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
روبو شنکر نجی اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ (ICU) میں زیر علاج تھے۔ ان کے بڑھتے ہوئے بلڈ پریشر کی وجہ سے ڈاکٹروں کی طرف سے ان کی کڑی نگرانی کی جا رہی تھی تاہم وہ چند ہی گھنٹوں میں انتقال کرگئے۔
ان کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد تامل سنیما انڈسٹری میں فضا سوگوار ہوگئی۔ ساتھی اداکار کمل ہاسن، کارتی، سمرن بگا سمیت کئی ستاروں نے اداکار کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔