خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) نے سیاحت کے فروغ کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے متحدہ سیاحتی ویزا متعارف کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جسے ’جی سی سی گرینڈ ٹورز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ویزا یورپ کے شینگن ماڈل کی طرز پر ہوگا اور سیاحوں کو بیک وقت 6 ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان میں باآسانی سفر کرنے کی سہولت دے گا۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی میں ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے خصوصی ویزا کا اجرا، کفیل کی ضرورت نہیں ہوگی

گلف نیوز کے مطابق جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم البدوئی نے تصدیق کی ہے کہ یہ ویزا آخری منظوری کے مراحل میں ہے اور رواں سال کے آخر تک اس کا ٹرائل شروع کردیا جائے گا۔ مکمل اجرا مرحلہ وار ہوگا جبکہ درخواستیں ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے جمع کرائی جاسکیں گی۔

اگرچہ جی سی سی ممالک کے شہری پہلے ہی ویزا فری سفر کے اہل ہیں، لیکن یہ ویزا بنیادی طور پر خطے میں موجود غیر ملکی رہائشیوں کو ہدف بنائے گا۔ ان کے لیے چھ مختلف ممالک کے الگ الگ ویزے لینے کے بجائے ایک ہی ویزا کافی ہوگا، جس سے اخراجات بھی کم ہوں گے اور سفری عمل بھی آسان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستانی عمان کا 10 دن کا مفت سیاحتی ویزا حاصل کر سکتے ہیں؟

متحدہ عرب امارات کے وزیر معیشت عبداللہ بن طوق المری نے کہا ہے کہ اس ویزے سے صرف پاسپورٹ ہولڈرز ہی نہیں بلکہ خطے کے رہائشی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے، جس سے ایمریٹس آئی ڈی جیسے دستاویزات کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

ابتدائی طور پر ویزے کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں لیکن امکان ہے کہ یہ 30 دن سے 90 دن تک کے لیے جاری کیا جا سکے گا۔ اس میں سنگل کنٹری یا چھ ممالک کے ایک ساتھ سفر کے اختیارات شامل ہوں گے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے درخواست دینے کا عمل جدید ٹیکنالوجی اور سکیورٹی معیارات کے مطابق ہوگا، تاکہ عالمی سطح پر سفر کرنے والوں کے لیے سہولت اور اعتماد دونوں یقینی بنائے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی بغیر ویزہ  قطر کیسے جا سکتے ہیں؟

یہ منصوبہ پہلی بار 2023 میں منظور کیا گیا تھا اور اس کا مقصد خطے میں سیاحتی معیشت کو وسعت دینا ہے۔ یو اے ای پہلے ہی سیاحتی مرکز ہے اور 2026 میں اتحاد ریل پراجیکٹ مکمل ہونے کے بعد ساتوں امارات کو ریل کے ذریعے جوڑ دیا جائے گا، جو اس نئے ویزے کو مزید پرکشش بنا دے گا۔

سعودی عرب بھی اپنے وژن 2030 کے تحت سیاحت پر بھرپور سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ نیوم سٹی، ریڈ سی ریزورٹس اور العُلا جیسے منصوبے عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔ متحدہ ویزے کی بدولت سیاح سعودی عرب کے مذہبی سفر کو دبئی، دوحہ یا مسقط جیسے دیگر شہروں کے ساتھ ملا کر ایک مکمل خلیجی ٹور میں بدل سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے پاکستانی سیاحوں کے لیے ویزا کی شرائط آسان کردیں

اگرچہ ویزے کا فریم ورک تقریباً مکمل ہو چکا ہے، لیکن تکنیکی اور سکیورٹی تقاضوں کو ہم آہنگ کرنا اب بھی ضروری ہے۔ جون 2025 میں ریاض میں ہونے والے اجلاس میں ان نکات پر پیشرفت کی گئی اور تمام ممالک نے اس منصوبے کو کامیاب بنانے کا عزم ظاہر کیا۔

سعودی عرب پہلے ہی مذہبی سیاحت کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے جہاں ہر سال لاکھوں حجاج اور عمرہ زائرین آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا ویزا ان زائرین کے تجربے کو مزید بہتر بنائے گا کیونکہ وہ طویل قیام کر کے مکہ و مدینہ کے علاوہ العُلا، نیوم اور الدرعیہ جیسے تاریخی اور ثقافتی مقامات کی سیر بھی کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بحرین کا گولڈن ویزا کن پاکستانیوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے؟

آرتھر ڈی لٹل مشرق وسطیٰ کے ماہر ریمنڈ خوری کے مطابق جی سی سی کا متحدہ ویزا نہ صرف سیاحوں کے قیام کو بڑھائے گا بلکہ خطے میں ملٹی کنٹری ٹورز کو بھی فروغ دے گا۔ ریاض اور جدہ کے بڑے ایئرپورٹس مختصر قیام کی سیاحت کے لیے ٹرانزٹ ہب بن سکتے ہیں، جبکہ سستے فضائی سفر اور علاقائی ریل نیٹ ورک کے ذریعے دبئی، مسقط یا دوحہ کو ایک ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بحرین خلیجی ممالک سعودی عرب سفر سیاحتی ویزا عمان قطر کویت متحدہ عرب امارات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خلیجی ممالک سیاحتی ویزا کویت متحدہ عرب امارات یہ بھی پڑھیں کے ذریعے کے لیے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت