data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دمشق: شامی صدر احمد الشرع ایک تاریخی دورے پر نیویارک  پہنچ گئے،جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے،  یہ شامی قیادت کی جانب سے 1967 کے بعد پہلا موقع ہے کہ وہ اس عالمی اجلاس میں براہِ راست شریک ہوگی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق صدر الشرع اپنے قیام کے دوران کئی عالمی رہنماؤں اور سرکاری وفود سے ملاقاتیں کریں گے اور شام کی نئی پالیسیوں اور ترجیحات پر روشنی ڈالیں گے۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں میں شام کی داخلی اصلاحات، علاقائی تعاون اور عالمی تعلقات کو وسعت دینے جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔

خیال رہےکہ  دمشق امریکا سے ان پابندیوں کے مستقل خاتمے کا خواہاں ہے جو اگرچہ جزوی طور پر نرم کی گئی ہیں لیکن اب بھی بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں، زیادہ تر پابندیاں 2019 میں منظور ہونے والے ایک امریکی قانون کے تحت لگائی گئی تھیں جس میں سابق صدر بشارالاسد کی حکومت کو خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ دسمبر 2024 میں بشارالاسد روس فرار ہوگئے تھے جس کے ساتھ ہی بعث پارٹی کے چھ دہائیوں پر محیط اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد جنوری 2025 میں احمد الشرع کی قیادت میں ایک عبوری حکومت تشکیل دی گئی جس نے سیاسی و معاشی اصلاحات کا آغاز کیا اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ پر زور دیا۔

ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم