Express News:
2026-06-02@23:22:59 GMT

مایوسیوں کے بادل چھٹ رہے ہیں

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ وطن عزیز کی فضاؤں پر مایوسیوں اور نااُمیدیوں کے جو گہرے باد ل چھائے ہوئے تھے وہ ایک لمبے عرصے کے بعد اب چھٹنے لگے ہیں۔2016کے بعد سے اب تک ہم نے کوئی اچھی خبر نہیں سنی تھی۔قوم ملکی حالات سے سخت مایوس ہوچکی تھی اور ہرکوئی جو یہ ملک چھوڑ کرجاسکتا تھا وہ جانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کرنے لگاتھا۔

ملک کے معاشی حالات اس قدر دگر گوں ہوچکے تھے کہ ڈیفالٹ ہوجانے کی خبریں عام ہونے لگی تھیں۔ کوئی ملک ہمیں قرض دینے کو تیار نہیںتھا ۔ ہم افغانستان اوربنگلا دیش کا بھی مقابلہ نہیں کرپارہے تھے۔ ہندوستان ہمارا دن رات مذاق بنارہا تھا اورIMF بھی ہمیں قرض دینے سے انکاری ہوچکاتھا۔ وہ ایک ایک ارب ڈالرز کے لیے ہمیں اپنے اشاروں پرنچوارہا تھا ۔ ملک کے اندر مہنگائی اورروزمرہ کی اشیاء کی گرانی نے عوام کی کمر توڑ کررکھ دی تھی۔

ہمیں اپنا مستقبل تاریک ہوتادکھائی دینے لگاتھا۔سیاسی بے چینی اورانتشار نے ایک الگ صورتحال پیدا کر رکھی تھی۔ہرروز کے احتجاجوں اورریلیوں نے ایک الگ کہرام مچایا ہوا تھا۔یہ سب کچھ کیوں ہوا، ہمیں اس پر ضرور غور کرناچاہیے۔ جان بوجھ کر ملک کے حالات کون خراب کررہاتھا۔اقتدارسے محرومی ہمارے اور وزرائے اعظم کی بھی ہوتی رہی لیکن کسی نے اس قدرانتقام اور بدلہ نہیں لیاجیسے ہمارے ایک سابق وزیراعظم نے اس قوم سے لیا۔خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کردی اورسارے ملک کو انتشار کی آگ میں جھونک ڈالا۔محترمہ بے نظیر بھٹو اورمیاں نوازشریف بھی جیل جاتے رہے اورایک سے زائد مرتبہ قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے لیکن اُن میں سے کسی نے بھی وہ حرکت نہیں کی جیسی ہم نے 9مئی 2023  میں دیکھی تھی۔ جس فوج کو اپنی عوام کی نظروں میںگرانے کی کوششیں کی گئی الحمدللہ اسی فوج کا ڈنکا آج ساری دنیا میں بج رہا ہے۔

ملک کو صومالیہ جیسا ملک بنانے کی گہری سازش کی گئی ۔ہم پہلے ہی اپنے دس سال دہشت گردی کی نذر کرچکے تھے اور 2013 الیکشن کے بعد اس کے اثرات سے باہر نکلنے کی کوششیں کر رہے تھے کہ کسی خفیہ ہاتھ کی شہ پرلانگ مارچ کا سوانگ رچایا گیا۔ چار حلقے کھولنے کا بہانہ بناکر 126دنوںتک دارالحکومت کو یرغمال بنا دیا گیا۔ ہر روز سرشام ایک تماشہ رچایاجاتا تھا اورنفرت انگیزجذباتی تقریروں سے قوم میں اشتعال پیداکرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔چرب زبانی اور بدکلامی کا یہ حال تھا کہ وہاں کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں رہی ۔ مخالفین کی عزت نفس کو پامال کیاجاتا رہا اوراپنے ہرمخالف کو گالیاں دی جاتی رہیں۔ قوم میں شعور پیدا کرنے کے نام پر قوم کااخلاق ہی بگاڑ دیا گیا۔ قوم کے اندرسے قوت برداشت ختم کرکے اس کاجنازہ نکال دیا گیا۔

یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک اقتدار کی خواہش کو تسکین نہ مل گئی۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی ملک اورقوم کی خوشحالی کے بجائے اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کے منصوبے بنائے جاتے رہے۔ مسلم لیگ نون کے تمام سرکردہ رہنماؤں کو نیب کے جھوٹے کیسوں میں الجھا کر پابندسلاسل کردیا گیا۔ ڈیڑھ دو برس تک کوئی شنوائی بھی نہیں ہورہی تھی اور وہ پھرسول عدالتوں سے ضمانتیں لے کررہا ہونے میں کامیاب ہوپائے۔ اس دور میں قوم کو خود کفیل اور خودانحصار بنانے کا کوئی منصوبہ زیر غور لایا ہی نہیں گیابلکہ شیلٹر ہومز اورلنگر خانے بناکر مفت کی روٹی کاعادی بنادیا گیا، اورپھرجب وہ کسی غیر آئینی نہیں بلکہ دستور کے عین مطابق عدم اعتماد تحریک کے نتیجے میں فارغ کر دیے گئے تو سارے ملک میں ایک نیا ہنگامہ کھڑاکردیاگیا ۔ملک بھر میںاحتجاج اورجلاؤ گھیراؤ کے ذ ریعے سڑکوں کو اپنی آماجگاہ بنا ڈالا۔اس طرح اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کی گئیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ قرضوں میں جکڑے ملک کو اس حال میں انھوں نے پہنچایا ہے جنھوں نے تین تین بار حکومتیں کی ہیں، حالانکہ جو نقصان اس شخص نے اپنے ایک ہی دور میں کرڈالا وہ باقی حکمرانوں کے ادوار میں نہیں دیکھا گیا۔ ہم آج جن مالی مشکلات کاشکار ہیںیہ اسی دور کاشاخسانہ ہیں۔

 2022 میں عدم اعتماد تحریک کے نتیجے میں پی ڈی ایم کی جو حکومت بنی تھی وہ اسی دور کے زہریلے اثرات سے نبردآزمائی میں لگی رہی ۔ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے اسے IMF کی کڑی شرطیں ماننی پڑیں اور اپنے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بھی ڈالنا پڑا مگر 2024 کے عام انتخابات کے بعد معرض وجود میں آنے والی اس حکومت نے سر توڑ کوششیں کرکے بالآخر ملک کو ڈیفالٹ ہوجانے کے خطروں سے باہر نکالااورالحمدللہ آج اس دور کے تباہ کن ثرات سے نکل کرہم ترقی کی منزلوں کی طرف گامزن ہوچکے ہیں۔

آج یہ حال ہے کہ سعودی عرب نے بھی اپنے ملک کی حفاظت کے لیے ہمیں سب سے معتبر اورقابل اعتماد جانا ۔ہماری کامیابی کا معترف اب امریکا جیسا بڑا طاقتور ملک بھی ہے۔ اس نے یہ جان لیا کہ پاکستانی افواج دنیا کی بہترین فوج ہے جس نے اپنے سے پانچ چھ گنا بڑے دشمن کو چند لمحوں میں گھٹنے ٹیک دینے پرمجبور کردیا۔ دنیا اس کے الزامات کوتسلیم کرنے سے انکاری ہے بلکہ اسے لعنت وملامت کررہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے بعد کے لیے ملک کو

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق