Express News:
2026-07-24@01:47:00 GMT

مایوسیوں کے بادل چھٹ رہے ہیں

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ وطن عزیز کی فضاؤں پر مایوسیوں اور نااُمیدیوں کے جو گہرے باد ل چھائے ہوئے تھے وہ ایک لمبے عرصے کے بعد اب چھٹنے لگے ہیں۔2016کے بعد سے اب تک ہم نے کوئی اچھی خبر نہیں سنی تھی۔قوم ملکی حالات سے سخت مایوس ہوچکی تھی اور ہرکوئی جو یہ ملک چھوڑ کرجاسکتا تھا وہ جانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کرنے لگاتھا۔

ملک کے معاشی حالات اس قدر دگر گوں ہوچکے تھے کہ ڈیفالٹ ہوجانے کی خبریں عام ہونے لگی تھیں۔ کوئی ملک ہمیں قرض دینے کو تیار نہیںتھا ۔ ہم افغانستان اوربنگلا دیش کا بھی مقابلہ نہیں کرپارہے تھے۔ ہندوستان ہمارا دن رات مذاق بنارہا تھا اورIMF بھی ہمیں قرض دینے سے انکاری ہوچکاتھا۔ وہ ایک ایک ارب ڈالرز کے لیے ہمیں اپنے اشاروں پرنچوارہا تھا ۔ ملک کے اندر مہنگائی اورروزمرہ کی اشیاء کی گرانی نے عوام کی کمر توڑ کررکھ دی تھی۔

ہمیں اپنا مستقبل تاریک ہوتادکھائی دینے لگاتھا۔سیاسی بے چینی اورانتشار نے ایک الگ صورتحال پیدا کر رکھی تھی۔ہرروز کے احتجاجوں اورریلیوں نے ایک الگ کہرام مچایا ہوا تھا۔یہ سب کچھ کیوں ہوا، ہمیں اس پر ضرور غور کرناچاہیے۔ جان بوجھ کر ملک کے حالات کون خراب کررہاتھا۔اقتدارسے محرومی ہمارے اور وزرائے اعظم کی بھی ہوتی رہی لیکن کسی نے اس قدرانتقام اور بدلہ نہیں لیاجیسے ہمارے ایک سابق وزیراعظم نے اس قوم سے لیا۔خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کردی اورسارے ملک کو انتشار کی آگ میں جھونک ڈالا۔محترمہ بے نظیر بھٹو اورمیاں نوازشریف بھی جیل جاتے رہے اورایک سے زائد مرتبہ قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے لیکن اُن میں سے کسی نے بھی وہ حرکت نہیں کی جیسی ہم نے 9مئی 2023  میں دیکھی تھی۔ جس فوج کو اپنی عوام کی نظروں میںگرانے کی کوششیں کی گئی الحمدللہ اسی فوج کا ڈنکا آج ساری دنیا میں بج رہا ہے۔

ملک کو صومالیہ جیسا ملک بنانے کی گہری سازش کی گئی ۔ہم پہلے ہی اپنے دس سال دہشت گردی کی نذر کرچکے تھے اور 2013 الیکشن کے بعد اس کے اثرات سے باہر نکلنے کی کوششیں کر رہے تھے کہ کسی خفیہ ہاتھ کی شہ پرلانگ مارچ کا سوانگ رچایا گیا۔ چار حلقے کھولنے کا بہانہ بناکر 126دنوںتک دارالحکومت کو یرغمال بنا دیا گیا۔ ہر روز سرشام ایک تماشہ رچایاجاتا تھا اورنفرت انگیزجذباتی تقریروں سے قوم میں اشتعال پیداکرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔چرب زبانی اور بدکلامی کا یہ حال تھا کہ وہاں کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں رہی ۔ مخالفین کی عزت نفس کو پامال کیاجاتا رہا اوراپنے ہرمخالف کو گالیاں دی جاتی رہیں۔ قوم میں شعور پیدا کرنے کے نام پر قوم کااخلاق ہی بگاڑ دیا گیا۔ قوم کے اندرسے قوت برداشت ختم کرکے اس کاجنازہ نکال دیا گیا۔

یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک اقتدار کی خواہش کو تسکین نہ مل گئی۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی ملک اورقوم کی خوشحالی کے بجائے اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کے منصوبے بنائے جاتے رہے۔ مسلم لیگ نون کے تمام سرکردہ رہنماؤں کو نیب کے جھوٹے کیسوں میں الجھا کر پابندسلاسل کردیا گیا۔ ڈیڑھ دو برس تک کوئی شنوائی بھی نہیں ہورہی تھی اور وہ پھرسول عدالتوں سے ضمانتیں لے کررہا ہونے میں کامیاب ہوپائے۔ اس دور میں قوم کو خود کفیل اور خودانحصار بنانے کا کوئی منصوبہ زیر غور لایا ہی نہیں گیابلکہ شیلٹر ہومز اورلنگر خانے بناکر مفت کی روٹی کاعادی بنادیا گیا، اورپھرجب وہ کسی غیر آئینی نہیں بلکہ دستور کے عین مطابق عدم اعتماد تحریک کے نتیجے میں فارغ کر دیے گئے تو سارے ملک میں ایک نیا ہنگامہ کھڑاکردیاگیا ۔ملک بھر میںاحتجاج اورجلاؤ گھیراؤ کے ذ ریعے سڑکوں کو اپنی آماجگاہ بنا ڈالا۔اس طرح اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کی گئیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ قرضوں میں جکڑے ملک کو اس حال میں انھوں نے پہنچایا ہے جنھوں نے تین تین بار حکومتیں کی ہیں، حالانکہ جو نقصان اس شخص نے اپنے ایک ہی دور میں کرڈالا وہ باقی حکمرانوں کے ادوار میں نہیں دیکھا گیا۔ ہم آج جن مالی مشکلات کاشکار ہیںیہ اسی دور کاشاخسانہ ہیں۔

 2022 میں عدم اعتماد تحریک کے نتیجے میں پی ڈی ایم کی جو حکومت بنی تھی وہ اسی دور کے زہریلے اثرات سے نبردآزمائی میں لگی رہی ۔ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے اسے IMF کی کڑی شرطیں ماننی پڑیں اور اپنے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بھی ڈالنا پڑا مگر 2024 کے عام انتخابات کے بعد معرض وجود میں آنے والی اس حکومت نے سر توڑ کوششیں کرکے بالآخر ملک کو ڈیفالٹ ہوجانے کے خطروں سے باہر نکالااورالحمدللہ آج اس دور کے تباہ کن ثرات سے نکل کرہم ترقی کی منزلوں کی طرف گامزن ہوچکے ہیں۔

آج یہ حال ہے کہ سعودی عرب نے بھی اپنے ملک کی حفاظت کے لیے ہمیں سب سے معتبر اورقابل اعتماد جانا ۔ہماری کامیابی کا معترف اب امریکا جیسا بڑا طاقتور ملک بھی ہے۔ اس نے یہ جان لیا کہ پاکستانی افواج دنیا کی بہترین فوج ہے جس نے اپنے سے پانچ چھ گنا بڑے دشمن کو چند لمحوں میں گھٹنے ٹیک دینے پرمجبور کردیا۔ دنیا اس کے الزامات کوتسلیم کرنے سے انکاری ہے بلکہ اسے لعنت وملامت کررہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے بعد کے لیے ملک کو

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف