Jasarat News:
2026-06-03@02:45:30 GMT

بنگلا دیش میں ڈینگی بے قابو‘ 24 گھنٹے میں 12 اموات

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلا دیش میں ڈینگی کے کیس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور صحت کے حکام نے اس سال اموات اور اسپتال میں داخلوں میں سب سے زیادہ یومیہ اضافہ رپورٹ کیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے بتایا گیا کہ 24 گھنٹوں میں 12 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 740 نئے مریض مچھر سے پھیلنے والی اس بیماری کے باعث اسپتالوں میں داخل ہوئے۔ اس سال ڈینگی کم از کم 179 افراد کی جان لے چکا ہے اور ملک بھر میں تقریباً 42 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں۔بچوں کی بڑی تعداد اسپتالوں کے وارڈز میں نظر آنے لگی ہے جن میں سے اکثر تیز بخار، دانے اور پانی کی کمی کے ساتھ آرہے ہیں، کچھ بچوں میں سنگین پیچیدگیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ ماہرین حشریات کا کہنا ہے کہ بدلتے موسمی حالات اس وبا کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ جہانگیر نگر یونیورسٹی کے علمِ حیوانیات کے پروفیسر کبیرال بشار نے کہا کہ مون سون عام سے زیادہ طویل ہو رہا ہے، جس سے ہر جگہ پانی جمع ہو رہا ہے، یہ طویل برسات مچھروں کو افزائش نسل کے لیے زیادہ وقت اور جگہ دے رہی ہے، اسی وجہ سے یہ وبا شدت اختیار کر رہی ہے۔ بنگلا دیش کی پھیلتی شہری آبادی، ناقص کچرا مینجمنٹ اور تعمیراتی مقامات پر جمی ہوئی پانی کی سطح نے بھی مچھر کی افزائش کے لیے مواقع بڑھا دیے ہیں۔ اسپتالوں پر دباؤ بڑھنے اور انفیکشن کے مسلسل اضافے کے باعث ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ ماہر امراضِ اطفال اے بی ایم عبداللہ نے کہا کہ بچے تیزی سے پانی کی کمی اور شاک کا شکار ہو سکتے ہیں، جو انہیں شدید ڈینگی کے لیے نہایت خطرناک بنا دیتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ ابتدائی علامات جیسے مسلسل بخار یا مسوڑھوں سے خون آنے کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ بنگلا دیش کے لیے بدترین سال 2023 ء رہا، جب ڈینگی نے ایک ہزار 705 افراد کی جان لے لی تھی اور 3 لاکھ 21 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے تھے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو اس طرح کا مہلک سلسلہ جاری رہے گا۔

انٹرنیشنل ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش کے لیے

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی