Jasarat News:
2026-07-24@03:31:05 GMT

بنگلا دیش میں ڈینگی بے قابو‘ 24 گھنٹے میں 12 اموات

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلا دیش میں ڈینگی کے کیس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور صحت کے حکام نے اس سال اموات اور اسپتال میں داخلوں میں سب سے زیادہ یومیہ اضافہ رپورٹ کیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے بتایا گیا کہ 24 گھنٹوں میں 12 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 740 نئے مریض مچھر سے پھیلنے والی اس بیماری کے باعث اسپتالوں میں داخل ہوئے۔ اس سال ڈینگی کم از کم 179 افراد کی جان لے چکا ہے اور ملک بھر میں تقریباً 42 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں۔بچوں کی بڑی تعداد اسپتالوں کے وارڈز میں نظر آنے لگی ہے جن میں سے اکثر تیز بخار، دانے اور پانی کی کمی کے ساتھ آرہے ہیں، کچھ بچوں میں سنگین پیچیدگیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ ماہرین حشریات کا کہنا ہے کہ بدلتے موسمی حالات اس وبا کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ جہانگیر نگر یونیورسٹی کے علمِ حیوانیات کے پروفیسر کبیرال بشار نے کہا کہ مون سون عام سے زیادہ طویل ہو رہا ہے، جس سے ہر جگہ پانی جمع ہو رہا ہے، یہ طویل برسات مچھروں کو افزائش نسل کے لیے زیادہ وقت اور جگہ دے رہی ہے، اسی وجہ سے یہ وبا شدت اختیار کر رہی ہے۔ بنگلا دیش کی پھیلتی شہری آبادی، ناقص کچرا مینجمنٹ اور تعمیراتی مقامات پر جمی ہوئی پانی کی سطح نے بھی مچھر کی افزائش کے لیے مواقع بڑھا دیے ہیں۔ اسپتالوں پر دباؤ بڑھنے اور انفیکشن کے مسلسل اضافے کے باعث ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ ماہر امراضِ اطفال اے بی ایم عبداللہ نے کہا کہ بچے تیزی سے پانی کی کمی اور شاک کا شکار ہو سکتے ہیں، جو انہیں شدید ڈینگی کے لیے نہایت خطرناک بنا دیتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ ابتدائی علامات جیسے مسلسل بخار یا مسوڑھوں سے خون آنے کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ بنگلا دیش کے لیے بدترین سال 2023 ء رہا، جب ڈینگی نے ایک ہزار 705 افراد کی جان لے لی تھی اور 3 لاکھ 21 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے تھے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو اس طرح کا مہلک سلسلہ جاری رہے گا۔

انٹرنیشنل ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش کے لیے

پڑھیں:

مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق

ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا