سرمایہ کاری تجارت بڑھانے کیلئے منصوبوں پر کام کیا جائے وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اسلام آباد+لندن (خبر نگار خصوصی +آئی این پی) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ زراعت، آئی ٹی، معدنیات، ٹورزم اور قابل تجدید توانائی اہم شعبے ہیں جن میں بیرون ممالک سے سرمایہ کاری آ سکتی ہے، تمام اہم شعبوں میں سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کے لئے قابل عمل منصوبوں پر کام کیا جائے۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت لندن سے زوم پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے حجم، اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے اعلیٰ سطح اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کہا کہ زراعت، آئی ٹی، معدنیات، ٹورزم اور قابل تجدید توانائی اہم شعبے ہیں جن میں بیرون ممالک سے سرمایہ کاری آ سکتی ہے، سرمایہ کاری کے ساتھ تجارت کو بھی فروغ دینا ہماری پالیسی کا حصہ ہے، تاکہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔ شہباز شریف نے کہا کہ وزارتوں کو ٹارگٹ دئیے ہیں اور تمام زیر تکمیل منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ قابل عمل منصوبوں کی نشاندہی کر کے ان کو عملی شکل دینے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک روڈ میپ اور تبدیلی کا ایجنڈا بنایا جائے تاکہ اپنے اہداف کی حصولی کے لئے ایک منظم انداز میں آگے بڑھا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی سرگرمیوں کے روڈ میپ میں نجی شعبے کا کلیدی کردار ہو گا اور انکی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ ہماری جاری معاشی اور اقتصادی اصلاحات کی پالیسی نے معیشت کو ایک نئی سمت دی ہے اور اس جدت اور شفافیت کی بدولت ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا مصدق ملک، علی پرویز ملک، محمد جہانزیب، جام کمال، عطاء اللہ تارڑ اور احد خان چیمہ شریک تھے۔ جبکہ وزیراعظم شہبازشریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں شرکت کے لئے لندن سے نیویارک پہنچ گئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق لندن کے لیوٹن ایئرپورٹ پر برطانیہ میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل اور سفارتی عملے نے وزیراعظم کو الوداع کہا۔ اسحاق ڈار جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک پہنچ گئے۔ اس اجلاس میں فلسطین اور غزہ کے مسائل ایجنڈے میں نمایاں رہیں گے۔ اجلاس شروع ہو گیا، 26 ستمبر کو ختم ہو گا۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ دیرپا شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دین اسلام، تاریخ، بھائی چارے اور اعتماد کی بنیاد پر استوار تعلقات ہمیشہ قائم و دائم رہیں گے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے وہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور اپنے عزیز سعودی بھائیوں اور بہنوں کو سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر نہایت گرم جوشی کے ساتھ مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات دین اسلام، تاریخ، بھائی چارے اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں جو ہمیشہ قائم و دائم رہیں گے۔ ہم اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مل کر سعودی عرب کے عظیم الشان ترقیاتی سفر پر فخر کرتے ہیں جو شہزادہ محمد بن سلمان کی بصیرت افروز قیادت میں جاری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران سعودی قیادت اور عوام کی طرف سے اظہار یکجہتی کو پاکستانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ پاکستانی عوام سعودی عرب کے معاشی تعاون کو بھی فراموش نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے ہماری معیشت کو سہارا ملا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سعودی عرب کے سرمایہ کاری اجلاس میں نے کہا کہ کے ساتھ کے لئے
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب