کراچی: ہیوی ٹریفک کے باعث خونی حادثات کا سلسلہ جاری، ڈمپر نے 2 موٹر سائیکل سواروں کو کچل دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
کراچی میں میمن گوٹھ کے علاقے درمحمد گوٹھ کے قریب تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار ایک شہری جاں بحق اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا جب کہ ناظم آباد میں موٹرسائیکل سوار نوجوان ون وہیلنگ کرتے ہوئے کھڑی گاڑی سے ٹکرانے کے باعث جاں بحق ہوگیا۔
شہرقائد میں ہیوی ٹریفک کے باعث خونی ٹریفک حادثات کا سلسلہ جاری ہے، منگل کی صبح میمن گوٹھ تھانےکے علاقے ملیر درمحمد گوٹھ کے قریب تیزرفتارڈمپر نے موٹر سائیکل سوارافراد کوکچل دیا۔
حادثے کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار ایک شہری موقع پر جاں بحق اور دوسرا زخمی شدید زخمی ہوگیا جنہیں فوری طور پر چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کردیا گیاجہاں جاں بحق شہری کی شناخت 25 سالہ شاہ نواز ولد مولا بخش اور زخمی شہری کی شناخت شاہ نور ولد گلاب کے نام سے کی گئی۔
حادثے میں جاں بحق اورزخمی ہونے والے شہری ملیر درمحمد گوٹھ کے رہائشی ہیں، حادثے کے بعد علاقہ مکینوں کی جانب سے میمن گوٹھ روڈ پررکاوٹیں رکھ کر سڑک کوٹریفک کے لیے بند کرکے شدید احتجاج کیا گیا۔
حادثے کی اطلاع اور سڑک ٹریفک کے لیے بند ہونے پرعلاقہ پولیس بھی موقع پرپہنچ گئی اور پولیس نے علاقہ مکینوں سے مذاکرات کے بعد سڑک پرٹریفک بحال کردی۔
میمن گوٹھ پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈمپرکو تحویل میں لینے کے بعد ڈمپرکے ڈرائیورعمر کو گرفتار کرلیا، گرفتار ڈرائیور کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ادھر ناظم آباد تھانے کی حدود میں ناظم آباد چارنمبر فائر اسٹیشن کے قریب موٹرسائیکل سوار نوجوان ون وہیلنگ کرتے ہوئے کھڑی گاڑی سے جا ٹکرایا جس کے نتیجے میں نوجوان شدید زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں شدید زخمی نوجوان چند گھنٹے موت اورزندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے دوران علاج دم توڑ گیا۔
متوفی نوجوان کی فوری شناخت ممکن نہیں ہوسکی ، پولیس کا کہنا تھا کہ معلوم ہوا ہے کہ متوفی نوجوان اورنگی ٹاؤن کا رہائشی تھا، متوفی نوجوان کے ورثا کو تلاش کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹرسائیکل سوار میمن گوٹھ ٹریفک کے گوٹھ کے کے بعد
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔