غزہ انسانیت اور عالمی ضمیر کا قبرستان بن چکا ہے، اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل میں خطاب
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ غزہ انسانیت کا قبرستان بن چکا ہے، وقت الفاظ کا نہیں عملی اقدامات کا ہے۔
اسحاق ڈار نے یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ اور مسئلہ فلسطین پر اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی المیہ اپنی بدترین شکل اختیار کر چکا ہے، 64 ہزار سے زائد فلسطینی جانوں سے محروم ہو چکے ہیں اور عالمی برادری کی خاموشی انسانیت کے ضمیر پر داغ ہے۔
’غزہ نہ صرف انسانیت کا قبرستان بن چکا ہے بلکہ عالمی ضمیر کا بھی۔ اب وقت الفاظ کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے، سلامتی کونسل اور عالمی برادری کو فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ فلسطینی عوام کو انصاف، تحفظ اور آزادی مل سکے۔‘
وزیر خارجہ نے کہا کہ اسپتال، اسکول، بازار اور بنیادی ڈھانچہ زمین بوس ہو چکا ہے جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر اور قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ان کے بقول یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ مائیں، باپ، بچے اور بزرگ ہیں جن کی زندگیاں ختم ہو چکی ہیں اور یہ سانحہ ہماری اجتماعی انسانیت پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ میں قحط اب حقیقت بن چکا ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق صرف غزہ شہر میں ہی 5 لاکھ سے زائد افراد جان لیوا بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں جبکہ خان یونس اور دیرالبلح میں بھی فاقہ کشی سر پر کھڑی ہے۔
’اس دوران اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے روزانہ درجنوں زندگیاں نگل لیں، پورے خاندان اجڑ گئے اور تقریباً 3 لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہو کر دربدر ہیں۔‘
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی توسیع پسندانہ عزائم، بالخصوص ’ای-ون‘ منصوبہ، بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے جو دو ریاستی حل کے تصور کے لیے کھلا چیلنج ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خون ریزی کے اس سلسلے کو روکنے کے لیے فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان کی بلاروک ٹوک فراہمی یقینی بنائی جائے اور محاصرہ ختم کیا جائے تاکہ متاثرہ عوام کو زندہ رہنے کا حق مل سکے۔
’اسی طرح فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کو عالمی قوانین کے مطابق تسلیم کیا جانا چاہیے۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی اور خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ہم 1967ء کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
انہوں نے فرانس اور سعودی عرب کی زیر صدارت 2 ریاستی حل سے متعلق حالیہ کانفرنس اور دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے باضابطہ اعتراف کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان 1988ء میں فلسطین کی آزادی کے اعلان کے فوراً بعد اسے تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار اقوام متحدہ سلامتی کونسل وزیر خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار اقوام متحدہ سلامتی کونسل سلامتی کونسل اسحاق ڈار بن چکا ہے کہ غزہ کہا کہ
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔