گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی ڈرون حملے
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
برازیلی کارکن تھییاگو ایویلا کے مطابق فلیٹ کے قریب دسواں دھماکہ بھی ریکارڈ کیا جا چکا ہے جبکہ ڈرونز مسلسل فضا میں منڈلا رہے ہیں اور کمیونیکیشن سسٹم کو جام کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ کی جانب رواں گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ برازیلی کارکن تھییاگو ایویلا کے مطابق فلیٹ کے قریب دسواں دھماکہ بھی ریکارڈ کیا جا چکا ہے جبکہ ڈرونز مسلسل فضا میں منڈلا رہے ہیں اور کمیونیکیشن سسٹم کو جام کیا جا رہا ہے۔ تھییاگو ایویلا نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم نے ابھی ابھی دسویں دھماکے کی آواز سنی، وہ اب بھی ہمارے امن مشن پر حملے کر رہے ہیں۔ وہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کی سیلز تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ ایسے آلات استعمال کر رہے ہیں جو انسانوں کو زخمی اور کشتیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایویلا نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ دنیا اس حملے کو دیکھے ہمارا انسانی مشن، جو بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہے اس پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے فرانچسکا البانیزے نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور X (ٹوئٹر) پر لکھا کہ سمود فلوٹیلا پر فوری بین الاقوامی توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ فلیٹ پر مختصر وقت میں کم از کم 7 بار حملے کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا