میٹا کی زیر ملکیت میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے ڈیوائس کے اندر میسجز کا ترجمہ کرنے کی سہولت فراہم کر دی ہے۔

یہ نیا آن ڈیوائس ٹرانسلیشن فیچر صارفین کو ایپ سے نکلے بغیر ہی چیٹس کا فوری ترجمہ کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے یہ فیچر 180 ممالک کے صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

اینڈرائیڈ فونز میں اس فیچر کے تحت انگلش، اسپینش، ہندی، پرتگیز، رشین اور عربی زبانوں کی سپورٹ دستیاب ہوگی۔

آئی او ایس ڈیوائسز میں 19 زبانوں کی سپورٹ ایپل ٹرانسلیشن کے تحت دستیاب ہوگی۔

واٹس ایپ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ صارفین اب مختلف زبانوں کے میسجز کا ترجمہ چند سیکنڈوں میں دیکھ کر اس کے مطابق جواب دے سکیں گے۔

فیچر کیسے استعمال کریں؟
اینڈرائیڈ فونز میں اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے مطلوبہ میسج کو کچھ دیر تک دبا کر رکھیں اور پھر اوپر دائیں کونے میں موجود تھری ڈاٹ مینیو پر کلک کرکے ٹرانسلیٹ اور پھر لینگوئج کا انتخاب کریں۔

ایسا کرنے کے بعد مطلوبہ میسج کا ترجمہ فوری طور پر نظر آئے گا۔

اینڈرائیڈ صارفین تمام چیٹس کے لیے آٹومیٹک ٹرانسلیشن آپشن کو بھی ٹرن آن کرسکتے ہیں۔

اس آپشن سے مستقبل میں اس کانٹیکٹ کی تمام چیٹس کا ترجمہ خودکار طور پر ہو جائے گا۔

میسجز کے ترجمے کا عمل ڈیوائس کے اندر ہی مکمل ہوگا اور صارفین کی چیٹس تک کسی اور کی رسائی نہیں ہوگی۔

آئی فونز میں بھی فیچر کو اسی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے، البتہ وہاں آٹومیٹک ٹرانسلیشن آپشن دستیاب نہیں ہوگا۔

کمپنی کے مطابق اس فیچر کو متعارف کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور بہت جلد تمام صارفین کو دستیاب ہوگا۔

یہ فیچر ون آن ون چیٹس، گروپ چیٹس اور چینل اپ ڈیٹس پر بھی کام کرتا ہے۔

یہ نیا فیچر ابھی واٹس ایپ ویب اور ونڈوز ورژن میں دستیاب نہیں۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کا ترجمہ واٹس ایپ کے لیے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ